بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک میں کسی بھی قسم کی نوکری کرنے کا حکم


سوال

کیا بینک میں کسی بھی قسم کی نوکری کرنا جائز نہیں ہے؟ میں نے بہت سے علماء سے سنا ہے کہ بینک کی ہر قسم کی نوکری حرام نہیں ہے؟

جواب

بینک میں کسی بھی قسم کی نوکری کرنے سے بینک کے سودی نظام میں معاونت کرنا لازم آتا ہے, جب کہ گناہ کے کاموں میں کسی بھی قسم کی معاونت کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے بینک میں کسی بھی قسم کی نوکری کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200174

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے