بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 جُمادى الأولى 1441ھ- 18 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک سے گاڑی لینے کا حکم


سوال

میرے دوست  کے پاس ایک گاڑی ہے اور وہ میں خرید کر  کریم سروس میں چلانا چاہتا ہوں روز گار کے  لیے،  لیکن میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں گاڑی خود کیش پر خرید سکوں، میں یہ گاڑی HBL  کے ذریعہ خریدنا چاہتا ہوں، 25 فیصد ادائیگی میں    کروں گا، باقی HBL کرے گا، کیا یہ سود کا معاملہ ہے یا نہیں؟

جواب

موجودہ دور میں کسی بھی بینک سے اشیاء کی خریداری کا معاملہ شرعی اصولوں کے مطابق درست نہیں ہے؛ اس لیے کسی بھی بینک سے گاڑی وغیرہ لینا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

نوٹ: کریم سروس میں گاڑی لگا کر اس کے ذریعے کمانے کا حکم جاننے کے لیے مذکورہ سروس کمپنی سے تمام ضروری دستاویزات تحریری طور پر حاصل کرکے حکم معلوم کیا جاسکتاہے، اس حوالے سے ہماری جامعہ کے دار الافتاء میں یہ مسئلہ زیرِ تحقیق ہے۔


فتوی نمبر : 144012201795

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے