بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک سے گاڑی لینا


سوال

کیا بینک کے ذریعے گاڑی لینا حرام ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ سود میں آتا ہے؛ کیوں کہ بینک والے آپ کو گاڑی اصل قیمت سے زیادہ دیتے ہیں اور اس میں انشورنس کے پیسے بھی لیتے ہیں جو کہ حرام ہے۔

جواب

جی ہاں! بینک کے ذریعہ گاڑی لینا حرام ہے ، بینک کے معاملات سود  سے خالی نہیں ہیں،  اس سے اجتناب لازم ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200795

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے