بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک سے کمائی ہوئی رقم سے گھر خریدنا


سوال

انیس سو ننانوے میں بینک میں ملازمت  کرتا تھا، وہاں سے قرضہ لے کر میں نے گھر خریدا اور اپنی بیگم کے نام کردیا ، بیگم کو مالک بنانا میرا مقصود نہیں تھا،  پھر میری تنخواہ  سے قسطیں کٹتی رہیں اس کے بعد جب میں ریٹائر ہوا تو پینشن سے بقیہ رقم جو رہ گئی تھی وہ بینک نے کاٹ دی اور اس کے بعد 2007 میں اوپر کا پورا فلور میں نے بنایا ، یہ پوچھنا ہے کہ اب اس کا شرعی مالک کون ہے؟

جواب

آپ نے بینک کی کمائی سے جو گھر بنایا ہے وہ کمائی ہی آپ کے  لیے حلال نہیں تھی اور اس سے خریدے ہوا مکان بھی آپ کے  لیے حلال نہیں، ہاں! اگر آپ کے پاس کوئی حلال رقم ہو اور اس حلال رقم میں سے اس مکان کی قیمت کے بقدر مستحقینِ زکاۃ کو دے دیں تو یہ  مکان آپ کے  لیے حلال ہو جائے گا۔

اور چوں کہ آپ نے یہ مکان صرف کاغذات میں بیوی کے نام کیا تھا، حقیقۃً بیوی کو  مالک نہیں بنایا تھا،  اس لیے اگر یہ رقم حلال ہوتی اور آپ اس رقم کے مالک ہوتے تو بھی بیوی اس مکان کی مالک نہ ہو تی، اس لیے مذکورہ صورت میں بدرجہ اولیٰ بیوی مالک نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200514

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں