بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بینک سے کار لیز کرانے کا حکم


سوال

بینک سے کار لیز کرانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کی لیزنگ کا جو طریقہ کا ر رائج ہے، اس میں  بینک اور لیز کرانے والے کے درمیان معاہدہ کے تحت دو عقد ہوتے ہیں، ایک بیع(خریدوفروخت) اور دوسرا اجارہ (کرایہ داری) کا عقدہوتا ہے، اور یہ طے پاتاہے کہ اقساط میں سے اگر کوئی قسط وقتِِ مقررہ پر جمع نہیں کرائی گئی تو بینک کی جانب سے مقرر ہ  جرمانہ لیز کرانے والا شخص ادا کرنے کا پابند ہو گا۔ اس لیے لیزنگ کے رائج طریقِ کار میں دو شرعی قباحتیں ہیں:

1۔ مالی جرمانہ لگانا شرعاً ناجائز ہے، جیساکہ "فتاوی شامی"  میں ہے: (قوله: لا باخذ مال في المذهب)... ؛ إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي". (باب التعزير:مطلب في التعزير بأخذ المال ٦١/٤ ط:سعيد)

 2۔۔ دوسری قباحت یہ ہے کہ لیزنگ میں دو عقد بیک وقت ہوتے ہیں ،ایک عقد بیع کا ہوتا ہے جس کی بنا پر قسطوں کی شکل میں ادائیگی خریدار پر واجب ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ ہی اجارہ (کرائے) کا معاہدہ بھی ہوتا ہے، جس کی بنا پر ہر ماہ کرائے کی مد میں بینک خریدار سے کرایہ بھی وصول کرتا ہے، اور یہ دونوں عقد ایک ساتھ ہی کیے جاتے ہیں جو کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان کی وجہ سے ناجائز ہیں:

« عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: نهی رسول الله صلي الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة". (رواه مالك و الترمذي و أبوداؤد و النسائي)

"و عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: نهی رسول الله صلي الله عليه وسلم عن بيعتين في صفقة واحدة. رواه في شرح السنة.»"

پس مذکورہ بالا شرعی قباحتوں کی وجہ سے لیزنگ جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200443

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے