بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بینک سے قسطوں پر گاڑی لینا


سوال

میں میزان بینک کی اجارہ اسکیم سے کار لینا چاہتا ہوں، جو کہ بینک قسطوں پر دیتا ہے اور میں بھی قسطوں پر لینا چاہتا ہوں، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس میں سود تو نہیں ہوگا؟  کیا یہ میرے  لیے جائز ہے؟ اور عام بینکوں سے اجارہ کار اسکیم سے کار لینا کیسا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

مروجہ اسلامک و کنوینشل بینکس سے قسطوں پر گاڑی لینا جائز نہیں۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200604

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے