بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیرون ملک مقیم افراد فطرہ کیسے ادا کریں؟ / مسافر پر روزہ لازم ہونے نہ ہونےکی تفصیل


سوال

1.  کیا سعودیہ عرب میں مقیم پاکستانی،  پاکستان میں پاکستان کی مقدار کے حساب سے صدقہ فطر بلا کراہت دے سکتا ہے؟ اسی طرح کیا وہ پاکستانی حساب سے سعودی عرب میں صدقہ فطر دے سکتا ہے؟

2 ۔ رمضان میں سفرکی حالت  میں جو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، اس کے لیے کیا شرط ہے؟ کیا فجر کے وقت سے پہلے سفر شروع کیا ہو، یا مثلاً: کسی کی فلائٹ اشراق کے بعد کی ہے اور وہ یہ کہے کہ آج مجھے سفر کرنا ہے تو کیا اس کے لیے روزہ نہ رکھنے کی رخصت ہے؟ اسی طرح ایک آدمی کو رات کو سفر شروع کرنا ہے اور اگلے دن اشراق کے وقت تک وہ اپنی منزل پر پہنچےگا یعنی سحری کے وقت وہ حالت سفر میں تھا تو کیا وہ روزہ چھوڑ سکتا ہے؟

3۔ اسی طرح ایک آدمی تین دن کے لیے سفر شرعی پر ہے، یعنی دوسرے شہر میں ہے، مگر حالتِ سفر میں نہیں ہے، بلکہ کسی جگہ ٹھرا ہوا ہے تو کیا اس کے لیے بھی افطار کی رخصت ہے؟

جواب

1۔۔ صدقہ فطر کی مقدار گندم کے حساب سے  پونے دو کلو گندم ہے چاہےکہیں بھی ادا کیا جائے، اور اگر قیمت ادا کرنی ہے تو جہاں ادائیگی کرنے والا موجود ہے  وہاں کا اعتبار ہوگا، لہذا  اگر آپ سعودیہ میں مقیم ہیں اور عید الفطر وہیں کریں گے  آپ پر اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر  سعودیہ عرب کے نرخ کے حساب سے دینا لازم ہوگا،  خواہ آپ یہ قیمت سعودیہ عرب میں ادا کریں یا آپ کی اجازت سے پاکستان میں ادا کی جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 355):
"والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح، وأن رءوسهم تبع لرأسه.
(قوله: مكان المؤدي) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية، كما في الشرنبلالية، وهو المذهب كما في البحر؛ فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه".

 2۔۔ اگر سفر  کی  مسافت کی مقدار کم سے کم اڑتالیس میل (سو ستتر کلومیٹر) یا اس سے زیادہ ہے تو اپنے شہر کے حدود سے نکلنے کے بعد روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہوگا اور  شرعی طور پر اس شخص کے لیے سفر میں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے جو صبح صادق کے وقت سفر میں ہو اور شرعی مسافر بن چکا ہو( یعنی شہر کی حدود وغیرہ سے نکل چکاہو)، اور اگر کوئی شخص صبح صادق کے وقت سفر میں نہ ہو  اس کے لیے روزہ چھوڑناجائز نہیں اگرچہ دن میں اس کا سفر میں جانےکاارادہ ہو۔ لہذا  اگر کسی کی فلائٹ اشراق کے بعد کی ہے تو چوں کہ وہ صبح صادق کے وقت مسافر نہ تھا، اس لیے اس کے لیے روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے۔ باقی جو شخص  رات کو سفر شروع کرے  اور سحری کے وقت  سفر میں ہو تو  اس کے لیے روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کا اختیار ہے، لیکن جب وہ اشراق کے وقت تک اپنی منزل (یعنی اپنے وطن اور گھر) پہنچ جائے اور اس نے روزہ کے  منافی کوئی عمل نہیں کیا تو  نصف النہار شرعی سے پہلے پہلے اسے نیت کرکے روزہ رکھنا ضروری ہے، تاہم اگر روزے کو فاسد کردیا تو صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں، اور اگر اس نے  روزے کے  منافی کوئی عمل کرلیا تھا تو اب روزہ تو نہیں ہوگا، البتہ روزہ داروں کی مشابہت کی وجہ سے کھانے پینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اور اگر رات کے وقت اپنے وطن سے سفر شروع کیا اور اگلے دن اشراق کے وقت وہ اپنی منزلِ مقصود (جہاں اسے سفر کانا ہے) تک پہنچ جائے تو اگر شرعی سفر ہو تو اسے روزہ چھوڑنے کی اجازت ہوگی، البتہ اگر اس نے صبح صادق کے بعد کچھ کھایا نہیں ہو تو نصف النہار شرعی سے پہلے وہ روزے کی نیت کرسکتاہے۔

 

3۔۔ شرعی مسافر کو روزہ رکھنے یا نہ رکھنے دونوں کا اختیار ہے، اور نہ رکھنے کی صورت میں بعد میں اس روزہ کی قضا کرنا لازم ہوگی، تاہم  اگر سفر کے دوران روزہ رکھنے  میں  سہولت ہے، دشواری نہیں  ہے تو روزہ رکھ لینا بہتر ہے، اگر روزہ رکھنے میں مشقت اور دشواری ہے تو  اس صورت میں روزہ نہ رکھنے کی بھی اجازت ہےاور بعد میں اس روزہ کی قضا کرلے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 431):
"(ولو نوى مسافر الفطر) أو لم ينو (فأقام ونوى الصوم في وقتها) قبل الزوال (صح) مطلقاً، (ويجب عليه) الصوم (لو) كان (في رمضان)؛ لزوال المرخص (كما يجب على مقيم إتمام) صوم (يوم منه) أي رمضان (سافر فيه) أي في ذلك اليوم، (و) لكن (لا كفارة عليه لو أفطر فيهما) للشبهة في أوله وآخره.

(قوله: ويجب عليه الصوم) أي إنشاؤه حيث صح منه بأن كان في وقت النية ولم يوجد ما ينافيه، وإلا وجب عليه الإمساك كحائض طهرت ومجنون أفاق كما مر، (قوله: كما يجب على مقيم إلخ) لما قدمناه أول الفصل أن السفر لا يبيح الفطر، وإنما يبيح عدم الشروع في الصوم، فلو سافر بعد الفجر لا يحل الفطر".

ردالمحتار على الدر المختار:

" (ويندب لمسافر الصوم)؛ لآية :﴿ وَأَنْ تَصُوْمُوْا ﴾ [البقرة: 184، والخير بمعنى البر لا أفعل تفضيل، (إن لم يضره) فإن شق عليه أو على رفيقه فالفطر أفضل؛ لموافقته الجماعة".  (فتاوی شامی (2/ 423) کتاب الصوم، ط: سعید) فقط واللہ اعلم

 

 


فتوی نمبر : 143908201124

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے