بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بیت الخلا سے باہر نکلنے کا طریقہ اور دعا


سوال

جب واش روم سے ہو کر باہر  آتے ہیں  تو کیا ہاتھوں  کو کلمہ پڑھ کر صاف کرنا ضروری ہے، مطلب کیا کلمہ پڑھنا جائز ہے؟  اور اگر جائز ہے یا  نہیں  تو کیوں؟

جواب

بیت الخلا سے نکلنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ   قضاءِ حاجت سے فارغ ہوکر   مکمل اطمینان ہوجانے کے بعد پہلے دایاں  پاؤں بیت الخلا سے باہر نکالے پھر بائیں قدم اور یہ دعاپڑھے:  ’’غُفْرَانَكَ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنِّيَ الْأَذَى وَعَافَانِي‘‘. واش روم کے اندر بھی ہاتھ دھوئے جاسکتے ہیں اور باہر آکر بھی۔  اندر ہاتھ دھونے کی صورت میں دعا اندر پڑھنا درست نہیں ہے، بلکہ واش روم سے باہر نکلتے ہوئے یہ دعا پڑھی جائے گی۔

باقی ہاتھ دھوتے ہوئے کلمہ پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ لوگوں میں جو یہ مشہور ہے کہ بیت الخلا سے نکلنے کے بعد کلمہ پڑھ کر ہاتھ دھوئے جائیں تو پاک ہوتے ہیں، اس کی کوئی اصل نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قضاءِ حاجت سے فراغت کے بعد ہاتھ دھوتے ہوئے کلمہ پڑھ کر ہاتھ دھونا ثابت نہیں ہے، اس لیے ہاتھ دھوتے وقت خاص طور پر کلمہ نہیں پڑھنا چاہیے، بسم اللہ یا مطلقاً کوئی بھی ذکر کیا جاسکتاہے۔ 

مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 28):
"ويخرج من الخلاء برجله اليمنى" لأنها أحق بالتقدم لنعمة الانصراف عن الأذى ومحل الشياطين "ثم يقول" بعد الخروج "الحمد لله الذي أذهب عني الأذى" بخروج الفضلات الممرضة بحبسها "وعافاني" بإبقاء خاصية الغذاء الذي لو أمسك كله أو خرج لكان مظنة الهلاك وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند خروجه: "غفرانك" وهو كناية عن الاعتراف بالقصور عن بلوغ حق شكر نعمة الإطعام وتصريف خاصية الغذاء وتسهيل خروج الأذى لسلامة البدن من الآلام أو عدم الذكر باللسان حال التخلي". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200734

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے