بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

گاڑی ادھار خریدنے کی صورت میں کیا ملکیت مکمل نہیں آئے گی؟


سوال

میں نے ایک گاڑی 52000 کی خریدی اور بہن کو استعمال کے لیے دی اس شرط پر کہ 25000 ابھی دے اور باقی قسطوں میں. بہن نے مجھے 3000 پانچ سالوں میں ادا کیے،  آٹھ سال بعد بہن نے گاڑی 20000 میں بیچ دی اور مجھے 20000 روپے ادا کیے،  میں نے بہن سے مزید 4000 مانگے تو بہن نے انکار کر دیا،  چوں کہ اس نے مجھے سارے پیسے ادا نہیں کیے تو وہ گاڑی کی مالک نہ ہوئی،  کیا میں اس سے بقیہ 4000 ادا کرنے کو بول سکتا ہوں؟ 

جواب

آپ نے  باہمی رضامندی سےاپنی بہن کو جتنی رقم متعین کرکے  گاڑی بیچی ہو اس  کا ادا کرنا ان پر لازم ہے۔  البتہ گاڑی کا معاہدہ ہوتے ہی وہ اس گاڑی کی مالکہ بن گئی تھی، اسی وجہ سے ان کا آگے اس گاڑی کو بیچنا درست ہوا؛  لہذا اگر طے شدہ رقم میں کچھ رقم باقی ہو، آپ اس کے مطالبے کا حق  رکھتے ہیں۔ فقط واللہ اعلم

 

 


فتوی نمبر : 143909201906

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے