بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بہن کا حصہ نہ دینا


سوال

اگر کسی کے ماں باپ کا انتقال ہو گیا ہو اور 4بھائی 2 بہنیں ہوں تو بھائی اپنا اور ایک بہن کا جو اُن کے ساتھ رہتی ہے اس کا حصہ دے دیں، لیکن دوسری بہن جس کی شادی ہو گئی ہو  اس کا حصہ ضبط رکھیں،  ماں باپ کے انتقال کے 17-18 سال بعد بھی بہن کو حصہ نہ دیں، اور بہن کی پسند کی شادی کا بہانہ بنا کر بہن کا حصہ اپنے قبضے میں  رکھیں،  اور کچھ سال ہر مہینے دس ہزار دے کر اس کا منہ بند کریں، اور بعد میں وہ بھی بند کر دیں،  حصہ  کی جب بات نکلے  تو بہانہ بنالیں،  کبھی کو ئی کبھی کوئی ٹائم دے کر ٹرخائیں، تو اس بارے میں ہماری شریعت قرآن و سنت میں کیا حکم ہے؟  اور یہ بھی بتائیں کہ جس کا حصہ کھا یا جا رہا ہے وہ کیا کرے؟

جواب

اگر واقعۃً  اس بہن نے کچھ رقم لے کر اپنے حصے سے دست بردار ہونے کا کوئی معاہدہ دیگر ورثہ سے نہیں کیا ہو، بلکہ وہ اپنا شرعی حصہ مکمل وصول کرنا چاہتی ہو تو  بھائی گناہ گار ہیں، ان پر لازم ہے کہ توبہ کریں،  بہن سے معافی مانگیں اور  شرعی حصہ کی فوری ادائیگی کریں۔ اور اگر وہ حصہ نہیں دیتے تو یہ بہن قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہے۔ 

حدیث میں ہے:

"من اقتطع شبرًا من الأرض ظلمًا طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين". 

ترجمہ: جس شخص نے ایک بالشت زمین بھی کسی سے ناحق لے لی، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200374

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں