بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بھتیجے کو ھبہ کرنے کے بعد بیٹیوں کو ھبہ کرنا


سوال

 ایک شخص نے بارہ سال قبل اپنی جائیداد اپنے بھتیجے کو  ہبہ کردی، پھر مرض وفات میں اپنی بیٹیوں کو  ہبہ کردی۔  پوچھنا یہ ہے کہ یہ ہبہ در ہبہ جائزہے اور اپنی اولاد کو  ہبہ کیا جاسکتاہے?

جواب

اگر اس شخص نے  جائیداد اپنے  بھتیجے  کو  صرف زبانی طور پر ہبہ کی ہو، مکمل تصرف کا  اختیار اور قبضہ نہ دیا ہو تو یہ ہبہ تام نہ ہونے کی وجہ سے  بدستور اسی کی  ملکیت تھی اب اگر وہ یہ جائیداد مرضِ وفات میں  اپنی بیٹیوں کو  ہبہ کرتاہے تو یہ ہبہ تو نہیں ہوگا، بلکہ وصیت کے حکم میں ہوگا، اگر تمام ورثاء اس پر متفق ہوں تو  نافذ  ہوگا ورنہ یہ جائیداد شرعی اعتبار سے اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگی ۔

  لیکن اگر اس شخص نے  اپنی مملوکہ  جائیداد  اپنے بھتیجے کو مکمل تصرف کے اختیار اور قبضہ کے ساتھ دی ہو تو وہ چیز  بھتیجے کی ملک بن چکی ہے، اب اگر بیٹیوں کو  ہبہ کرتا ہے تو یہ بھتیجے کی اجازت پر موقوف ہوگا، اگر وہ اس کی اجازت دے گا تو  ہبہ نافذ ہوگا اور اجازت نہ دے تو یہ جائیدادبھتیجے ہی کی ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200858

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں