بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بھائی کی میراث


سوال

‏کسی شخص کی اگر صرف بیٹیاں ہوں تو وراثت میں  اس کے بھائیوں کو حصہ ملتا ہے؟

جواب

جی ہاں ! اگر ‏کسی شخص کا انتقال ہو اور اس کی صرف بیٹیاں ہوں، اور مرنے والے کے والد زندہ نہ ہوں  تو وراثت میں  اس کے بھائیوں کو حصہ ملتا ہے ۔اگر میت کے والد ہوں تو بھائی کو کچھ نہیں ملتا۔

"العصبة بنفسه الذکر الذي لایفارقه الذکور في نسبته إلی المیت". (المبسوط للسرخسي ۲۹؍۱۳۸ بیروت)

الموسوعة الفقهية الكويتية (3/ 42):
"الأول: جزء الميت، والثاني أصله، والثالث جزء أبيه، والرابع جزء جده.
فيقدم في هذه الأصناف والمندرجين فيها الأقرب فالأقرب، أي يرجحون بقرب الدرجة. فأولاهم بالميراث بنو الميت، ثم بنوهم وإن سفلوا، ثم أصل الميت أي الأب، ثم أبوه وإن علا".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200433

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے