بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

بکروں کا کام


سوال

میں نے بکروں کا کام شروع کیا ہے جس میں میں خرید کر بیچتا ہوں اور پلائی پر بھی لیتا ہوں، کیا یہ کام صحیح ہے؟

میں نے چھوٹے بچے بھی پالے ہیں۔ کبھی ایسا ہوجائے کہ بچہ بیمار ہوجائے اور اس کی زندگی کا آخری وقت ہو تو میں اس کو قربان کر سکتا ہوں؟ اور کم سے کم عمر کی کوئی قید ہے؟

جواب

بکروں کو خرید کر اس پر اپنا منافع رکھ کر اسے بیچنا جائز ہے۔

بکری کا بچہ پیدا ہونے کے بعد  پالنے پر اس کی اجرت متعین کرکے لینا بھی جائز ہے، اور بچے پالنے کے لیے عمر کی حد متعین نہیں ہے، اسی طرح بوقتِ ضرورت بچہ ذبح کرنے کے لیے بھی عمر کی کوئی قید نہیں ہے،  اگر غالب گمان ہو کہ جانور کا آخری وقت ہے اور اس کے مالک کی طرف سے ایسی حالت میں ذبح کرنے کی اجازت ہو تو اسے ذبح کرسکتے ہیں۔ 

البتہ جانور پال کر مقررہ مدت کے بعد جانور آدھے آدھے تقسیم کرلینا درست نہیں ہے۔ مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر تفصیلی فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

جانور کو آدھے حصے پر پالنے کے لیے دینا

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105201032

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے