بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

بچے کا نام حیدر رکھنا، اور نام کا بھاری ہونا


سوال

بچے کا نام ’’حیدر‘‘  رکھا ہے،  پر بہت ضدی ہے اور نڈر ہے،  ڈرتا نہیں ہے،  عمر دو سال ہے.  پوچھنا تھا کہ نام بھاری تو نہیں ہے؟  بدل دیں ؟

جواب

’’حیدر‘‘  کے معنی شیر کے ہیں، یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ناموں میں سے ہے، یہ نام رکھنا درست ہے۔اگر آپ تبدیل کرنا چاہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ تاہم نام بھاری ہونے کا تصور درست نہیں ہے، خصوصاً کسی صحابی رضی اللہ عنہ کی نسبت سے نام رکھا ہو تو اس میں یہ سوچ نہیں ہونی چاہیے۔

الصحاح تاج اللغة وصحاح العربية (2 / 625):

" والحيدرة: الأسد. وقال علي رضى الله عنه: أنا الذي سمتني أمي حيدرة  * لأن أمه فاطمة بنت أسد لما ولدته وأبو طالب غائب سمته أسداً باسم أبيها، فلما قدم أبو طالب كره هذا الاسم فسماه علياً". فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144012201533

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں