بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بچیوں کے نام


سوال

میری آٹھ سال کی بیٹی ہے جس کا نام وانیا رکھا گیا،اس کی طبعیت میں ضد اور غصےکا عنصر نمایاں ہے، اب ہم اس کا نام تبدیل کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس کی والدہ کا نام کنول کامران ہے، بچی کی تاریخ پیدائش 8 نومبر2010 ہے۔ آپ کے مشورے کا طلب گار!

جواب

بچوں کے نام انبیاءِ کرام علیہم السلام یا صحابہ  و صحابیات کے نام پر یا اچھے معنی پر مشتمل ہونے چاہییں؛ کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کے لیے اچھے نام منتخب کرنے کی تعلیم دی ہے، نیز  آپ ﷺ نے نامناسب معانی پر مشتمل ناموں کو تبدیل بھی کیا ہے، اور بعض روایات میں نام کے معنی کے شخصیت پر اثر انداز ہونے کی طرف اشارہ بھی  ہے۔ ’’وانیہ‘‘ عربی زبان میں سست کے معنی میں ہے۔

بہر حال اگر آپ اپنی بچی کا نام تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو ذیل میں دیے گئے لنک پر تلاش کر سکتے ہیں، جہاں بچیوں کے نام ان کے مطلب کے ساتھ درج ہیں:

http://www.banuri.edu.pk/islamic-name?word=%D8%AD%D8%B1%D9%81+%D9%85%D9%86%D8%AA%D8%AE%D8%A8+%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA&gender=2-%D9%84%DA%91%DA%A9%DB%8C

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144003200366

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں