بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بچوں کے کپڑے بچیوں کو پہنانا


سوال

اگر بیٹے کے کپڑے رکھے ہیں تواس کے بعد بیٹی ہو جائے تو وہ بیٹے کے کپڑے بیٹی کو پہنا سکتے ہیں یا نہیں؟ مطلب لڑکے کے کپڑے لڑکی کو پہنا سکتے ہیں یا نہیں؟ اسلام اس کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

جواب

وضع قطع سے متعلق شریعت کا یہ حکم ہے کہ جو لباس بڑوں کے لیے پہننا جائز ہے وہ بچوں کو پہنایا جائے اور جو لباس بڑوں کے لیے پہننا درست نہیں ہے وہ بچوں کو بھی نہ پہنایا جائے، مثلاً سونا اور ریشم بڑوں کے لیے ممنوع ہے تو بچوں کو بھی اس کا پہنانا درست نہیں، اسی طرح چوں کہ مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے؛ لہذا یہ ہی حکم والدین کے لیے بچوں سے متعلق ہو گا کہ وہ اپنے  لڑکوں کو ایسا لباس نہ پہنائیں جو لباس بچیوں کے لیے  خاص ہو اور لڑکیوں کو ایسا لباس نہ پہنائیں جو لڑکوں کے لیے مخصوص ہو۔

البتہ بچوں کے بعض لباس ایسے ہوتے ہیں جو لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں تو ایسے لباس دونوں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

نیز اگر کسی کپڑے  کا مالک ایک بچے کو بنا دیا گیا ہے تو وہ کپڑا  اسی بچے کا ہو گا اور  وہ کپڑے دوسرے بچے کو  پہنانا درست نہ ہو گا، ہاں! اگر اس کپڑے کے بدلے پہلے بچے کو کوئی دوسرے کپڑے  دے دیے جائیں تو اس کے بدلے وہ کپڑے دوسرے بچے کو پہنائے جا سکتے ہیں۔

 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 352):
"وفي الهداية: ويكره أن يلبس الذكور من الصبيان الذهب والحرير".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 362):
"(وكره إلباس الصبي ذهباً أو حريراً) فإن ما حرم لبسه وشربه حرم إلباسه وإشرابه".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 362):
"(قوله: وكره إلخ) لأن النص حرم الذهب والحرير على ذكور الأمة بلا قيد البلوغ، والحرية والإثم على من ألبسهم لأنا أمرنا بحفظهم، ذكره التمرتاشي. وفي البحر الزاخر: ويكره للإنسان أن يخضب يديه ورجليه، وكذا الصبي إلا لحاجة، بناية. ولا بأس به للنساء اهـ مزيد اهـ ط. أقول: ظاهره أنه كما يكره للرجل فعل ذلك بالصبي يكره للمرأة أيضاً وإن حل لها فعله لنفسها".

إحكام النظر في أحكام النظر بحاسة البصر (ص: 162):
"مسألة: قال القاضي أبو بكر بن الطيب : (ويُنهى) الغلمان عن الزينة بما يدعو إلى الفساد من عمل الأصْدَاغِ والطُّرَرِ فإنه ضرب من التشبُّه بالنساء، وتعمّد الفساد، إلا أن يكون ذلك عادة، وزِيًّا لأهل البلد وعَامًّا فيهم أو في أكثرهم أو عادة لقوم منهم.
وقال محمد بن الحسين الآجري : وعلى الإِمام أن ينهى الغلمان أن يظهروا زيَّ الفسّاق، ولايصحبوا أحدًا ممن يُشار إليه بأنه يتعرض للغلمان، وكذلك الآباء: عليهم أن ينهوا أبناءهم عن زي الفسّاق وصحبتهم؛ ذكر ذلك في كتاب: "تحريم الفواحش" له.
والقول بمنعهم من التشبُّه بالنساء مطلقًا هو الصواب، كما تُنهى المرأة مطلقًا عن التشبه بالرجال".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200392

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے