بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بچوں سے جرمانہ لینا


سوال

 1۔بعض مدارس میں طالبِ علم کے غیر حاضر ہونے کی صورت میں ان سے جرمانہ لیتے ہیں اور سال کے آخر میں ان کو راضی کرکے ان پیسوں سے طلبہ ہی کی دعوت کی جاتی ہے،اس کا شرعی حکم کیاہے؟

2۔نیز طلبہ کلاس کی سطح پر ہر ماہ وظیفہ ملنے پر 50 روپے جمع کراتے ہیں، جن کو کلاس کا امیر کلاس کی مشترکہ ضروریات میں خرچ کرتاہے ،کیا یہ جائزہے؟ اگرناجائز ہے تو اس کی جائز صورت کیا ہوسکتی ہے؟

جواب

1- بچوں سے جرمانہ لینے کے بجائے ان کو کوئی اور سزا دینی چاہیے؛ کیوں کہ مالی جرمانہ جائز نہیں ہے۔ اگر یہ طلبہ دلی رضامندی سے اجازت نہ  دیتے ہوں یا ان میں کچھ نابالغ طلبہ بھی ہوں  تو اس کھانے کی بھی  اجازت نہیں ہے۔

2-مشترکہ ضروریات کے لیے ان سے رقم لی جاسکتی ہے جو ان ہی کے مفاد میں خرچ ہوتی ہے۔

"وفي شرح الآثار: التعزیر بالمال کان في ابتداء الإسلام ثم نسخ، والحاصل: المذهب عدم التعزیر بالمال". (شامي: ۳/۱۷۹) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200883

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے