بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بٹیر کھانا


سوال

آج کل کچھ لوگ  چِڑے / بٹیر  کہہ کر لالیاں کھلا رہے ہیں، ایک ٹی وی پروگرام میں میں نے سنا ہے کہ لالیاں مکروہ ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ لالیاں کیوں مکروہ ہیں؟ نیز یہ کہ انجانے میں ایسا پرندہ کھانے کا کوئی گناہ/کفارہ ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ہر وہ پرندہ جو پنجوں کےذریعے سےشکار کرکے کھاتا ہو یا اس  کی غذا فقط  گندگی ہو تو ایسے پرندوں کاکھاناحرام  ہے اور جس کے پنجے ہی نہ ہوں یاپنجے تو ہوں لیکن وہ ان سے شکار نہ کرتا ہو تو اس کا کھانا جائز ہے۔

مذکورہ تفصیل کی روسے سوال میں ذکرکردہ تینوں پرندے نہ تو  پنجوں کے ذریعے سے شکار کرکے کھاتے ہیں اور نہ ہی ان کی غذا فقط گندگی ہے؛ لہذا ان تینوں  کاکھانا بغیرکسی کراہت کے جائز ہے۔

حدیث میں ہے:

"عن ابن عباس قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كلّ ذي ناب من السباع وكلّ ذي مخلب من الطير. رواه مسلم". (۲/۱۱۹۹/ المكتب الإسلامي – بيروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(عن كلّ ذي ناب) أي: أكله (من السباع) أي: سباع البهائم كالأسد والنمر والفهد والدب والقردة والخنزير (وعن كلّ ذي مخلب) : (من الطير) أي: من أكل سباعه. في شرح السنة: أراد بكل ذي ناب ما يعدو بنابه على الناس وأموالهم، كالذئب والأسد والكلب ونحوها، وأراد بذي مخلب ما يقطع ويشق بمخلبه كالنسر والصقر والبازي ونحوها". (کتاب الصید/۶/۲۶۵۵/ دار الفكر، بيروت – لبنان)

تبيين الحقائق  میں ہے:

"قال رحمه الله: ( لايؤكل ذو ناب ومخلب من سبع وطير) أي لايحلّ أكل ذي ناب من سباع البهائم وذي مخلب من سباع الطير؛ لما روى ابن عباس رضي الله عنهما أنّ النبي صلى الله عليه وسلم: {نهى عن أكل كل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير} ... والسباع جمع سبع وهو كلّ مختطف منتهب جارح قاتل عاد عادةً، و المراد بذي مخلب ما له مخلب هو سلاح، و هو مفعل من الخلب و هو مزق الجلد، و يعلم بذلك أنّ المراد بذي مخلب هو سباع الطير لا كلّ ما له مخلب، وهو الظفر كما أريد في ذي ناب من سباع البهائم لا كلّ ما له ناب". (فصل فیما یحل أکله و مالایحل /۱۶/۲۶۴) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106200679

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں