بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بوگس ڈگری کے ذریعے کسی سرکاری محکمے میں بھرتی


سوال

ایک شخص غلط یعنی بوگس ڈگری کے ذریعے کسی سرکاری محکمے میں بھرتی ہوا،  اس کی کمائی حلال ہے یا حرام جب کہ بھرتی ہونے کے بعد اپنی ڈیوٹی صحیح کرتا ہے؟

جواب

بوگس ڈگری کے ذریعے کسی سرکاری محکمے میں بھرتی ہونا ناجائز  اور دھوکا ہے، ایسا کرنے والا گناہ گار ہے، اس کو  چاہیے کہ وہ اپنے محکمے کے مجاز افسر  کو اس جھوٹ کے بارے میں بتادے اور محکمے کو  دھوکے میں نہ رکھے، البتہ اب  تک کی جو تنخواہ ہے یا آئندہ اسی سیٹ پر برقرار رہے تو اس تنخواہ  کی بنیاد اس کا عمل ہے، اگر وہ صحیح ہےاور اس کام کی صلاحیت واہلیت ہو تو اس کی تنخواہ حرام نہیں ہوگی۔

نیز  اس کے دھوکے کی اطلاع کی صورت میں متعلقہ ادارے کو شریعت کے دائرے میں محکماتی کار روائی کا حق ہوگا۔

والإجارة لاتخلو: إما أن تقع علی وقت معلوم أو عمل معلوم، فإن وقعت علی عمل معلوم فلاتجب الأجرة إلا بإتمام العمل ... وإن وقعت علی وقت معلوم فتجب الأجرة بمضي الوقت ... الخ (النتف في الفتاوی، کتاب الإجارة، معلومیة الوقت والعمل، ص: ۳۳۸، ط: سعید)

الفتاوی الهندیة، ج: ۴، ص: ۴۱۶

أما شرائط الصحة ... أن یکون المعقود علیه وهو المنفعة معلوماً ...  الخ (الفتاوی العالمکیرية: ج۴ص۴۱۱،کتاب الإجارة)

الأجرة لاتجب بالعقد وتستحق ... باستیفاء المعقود علیه. (الهدایة: ج۳ص۲۹۷، کتاب الإجارات)

تفسد الإجارات بالشروط المخالفة لمقتضی العقد ... الخ (الدر المختار، ج۵ص۳۲)

ولو استاجر کتبًا لیقرأ فیها شعرًا أو فقهًا أو غیر ذلك لم یجز؛ لأن المعقود علیه فعل القارئ والنظر في الکتاب والتأمل فیه لیفهم المکتوب فعله أیضًا فلایجوز أن یجب علیه أجر بمقابلة فعله، ولأن فهم ما في الکتاب لیس في وسع صاحب الکتاب ولایحصل بالکتاب ... وکان صاحب الکتاب یوجب له ما لایقدر علی إیفائه فلیس في عین الکتاب منفعة مقصودة لیوجب الأجر بمقابلة ذلك فکان العقد باطلاً ... ولا أجر له وإن قرأ ... الخ (المبسوط للسرخسي ۴۰/۱۶باب الإجارة الفاسدة) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200420

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں