بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

بلا وجہ طلاق کا مطالبہ کرنا


سوال

شادی کے تقریباً دو ماہ بعد ہی میری بیوی کے ساتھ لڑائی ہوگئی اور وہ گھر چھوڑ کر میکے چلی گئی،  تقریباً ایک سال بعد جب بیٹی پیدا ہوئی، تب اس کے ساتھ صلح صفائی ہوگئی اور وہ میرے گھر واپس آ گئی، اور پھر تقریباً دو ماہ گزرنے کے بعد پھر مسئلہ بنا کہ وہ کہتی ہے کہ تمہارے ساتھ رہنا نہیں، میری نہیں بن سکتی ،مجھے طلاق چاہیے، میری شادی کو تقریباً چار سال ہوچکے ہیں اور میری دو بیٹیاں ہیں۔ ہماری لڑائی کی اصل وجہ اس کی فیملی ہے، وہ کہتی ہے کہ میں اپنی فیملی نہیں چھوڑ سکتی، تمہیں چھوڑ سکتی ہوں، اس کے باوجود وہ طلاق کا کئی دفعہ دعویٰ بھی کرچکی ہے کہ مجھے طلاق چاہیے، میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی ، وہ مجھ سے ذرا بھی کمپرومائز نہیں کرنا چاہتی، وہ کہتی ہیں کہ آپ ہم ایک نہیں ہوسکتے، مجھے طلاق چاہیے ، صرف طلاق ۔

اب اس کا حل آپ بتائیں میں کیا کروں؟ ماشاءاللہ میری دو بیٹیاں ہیں، اگر میں طلاق دیتا ہوں تو ان بچیوں کی زندگی تباہ ہو جائے گی، وہ لڑکی اس بات کے متعلق نہیں سوچتی، میں بہت پریشان ہوں، آپ میرا فیصلہ کردیں گے، شاید کوئی حل نکل آئے، مگر وہ اس بات سے راضی نہیں، وہ کہتی ہے ہم ایک نہیں ہو سکتے،  وہ کہتی ہے مجھے طلاق ہی چاہیے!

جواب

واضح رہے کہ ازدواجی زندگی پرسکون اور خوش گوار  ہونے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں،  نبی کریم ﷺ نے شوہرکو اپنی اہلیہ کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد نبوی ہے: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی گھر والی کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنی گھر والی کے ساتھ تم میں سے سب سے بہتر ہوں۔ دوسری جانب بیوی کو بھی اپنے شوہر کی اطاعت اور فرماں برداری کا حکم دیا ، ارشاد نبوی ہے:  بالفرض اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، بلا کسی ضرورت کے بیوی کا طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں، نبی کریم ﷺ  نے شرعی وجہ کے بغیر طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنے والی عورت کو منافق قرار دیا ہے۔

 لہذا صورتِ مسئولہ میں  سائل کی  بیوی کو چاہیے کہ وہ طلاق یا خلع کا مطالبہ نہ کرے، سائل بھی طلاق نہ دے،  دونوں ماضی کی تلخ یادوں کو  یک سر بھلا دیں، ایک دوسرے کو دل سے معاف کردیں اور خوش وخرم زندگی گزاریں۔ اگر بیوی کے طلاق کے مطالبے کی وجہ الگ رہائش ہو جہاں آپ کے اہلِ خانہ کا عمل دخل نہ ہو اور آپ کی استطاعت ہو تو اپنی استطاعت کی حد تک اسے جدا رہائش دینے سے دریغ نہ کیجیے، ممکن ہے بعد میں آپ کی بیوی کو غلطی کا احساس ہوجائے، تاہم آپ خود اپنے والدین کی خدمت جاری رکھیے، اس میں بالکل کوتاہی نہ کیجیے۔  

"وعنعائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي، وإذا مات صاحبكم فدعوه»، رواه الترمذي والدارمي". (مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: 281 ط: قديمي)

"وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمرًا أحدًا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». رواه الترمذي". (مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: 281 ط: قديمي)

"عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المنتزعات والمختلعات هن المنافقات» . رواه النسائي". (مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، باب الخلع و الطلاق 5 / 2144 ط: دار الفكر)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200346

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں