بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

بلا سبب سجدۂ سہو غلطی سے کرنا


سوال

لو سجد سجدة السهو ولم يجب عليه ذلك فهل تصحّ صلاته أو لا؟

جواب

لو ظنّ المصلي أنّ علیه سهوًا  فسجد للسهو، ثمّ علم أنّه لم یكن علیه سهو فالمختار أنّه لایفسد صلاته، ولا حاجة إلی الإعادة أیضاً.

خلاصة الفتاوی (۱/۱۶۳، أمجد أکادمي):

"إذا ظنّ الإمام أنّه عليه سهواً فسجد للسهو وتابعه المسبوق في ذلك، ثمّ علم أنّ الامام لم يكن عليه سهو، فيه روايتان ... وقال الإمام أبو حفص الكبير: لايفسد، والصدر الشهيد أخذ به في واقعاته، وإن لم يعلم الإمام أنّ ليس عليه سهو لم يفسد صلاة المسبوق عندهم جميعاً". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200142

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے