بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1442ھ- 02 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بلا ازن ولی نکاح کا حکم


سوال

مجھے ایک لڑکی سے بہت پیار ہے اور وہ بھی مجھے بہت چاہتی ہے، گزشتہ دو سالوں سے ہم موبائل پر باتیں کرتے ہیں اور ہماری اس محبت کا تاحال کسی کو واضح علم نہیں ہوسکا، اور ہم بھی اپنی محبت ظاہر نہیں کرسکتے کیونکہ ہم دونوں کے خاندان کی آپس میں ناچاقیاں ہیں، ہمیں معلوم ہے ہمارے گھر والے کبھی بھی ہماری شادی نہیں ہونے دینگے، مگر ہم ایک دوسرے کے بغیر اب نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم محبت میں کافی آگے نکل گئے ہیں جہاں سے اب واپسی ممکن نہیں، اب ہم ایک دوسرے کی ضرورت بن چکے ہیں، اس وقت ہمارا یہ حال ہے کہ اگر خودکشی حرام نہ ہوتی تو ہم دونوں خودکشی کرلیتے، میں نےاس کو گھر سے بھاگنے کا کہا مگر وہ اپنی والدہ کی عزت کی وجہ سے ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ وہ میرے بغیر خوش نہیں رہ سکتی، ہم نے تنہائی میں بھی کافی ملاقاتیں کی ہیں مگر اب تک ایک دوسرے کو غلط انداز سی چھوا تک نہیں ہے، ہم اپنی پاکیزہ محبت میں حرام فعل کا ارتکاب کرنا نہیں چاہتے اسلئے مجبور ہوکر ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم آپس میں خفیہ طور پر نکاح کرلیں اور اس نکاح کا کسی کو علم نہ ہونے دیں، اب ہم آپس کی رضامندی سے خفیہ نکاح کرنا چاہتے ہیں، واضح رہے کہ میں ایک مرتبہ گھر پر اس رشتے کیلئے بات بھی کرچکا ھوں اور میرے گھر والے کسی بھی حال میں ہمیں ایک نہیں ہونے دیتے حالانکہ ہم دونوں کی شادی نہ کرنے کا کوئی شرعی جواز ہم دونوں کی گھر والوں کے پاس نہیں ہے بس وہ آپس کی دشمنی کی وجہ سے ہماری محبت کو برداشت نہیں کرسکتے، اسلئے مجبورا ہم خفیہ شادی کررہے ہیں تو کیا ہم اپنی طرف سے دو گواہ بنا کر بغیر نکاح فارم اور بغیر اذن ولی کے ایجاب و قبول کرکے مہر مؤجل مقرر کرکے اپنا نکاح کرسکتے ہیں؟ میں بعد میں وہ مہر باقائدہ ادا کروں گا، ہم بہت مجبور ہوکر گناہ میں پڑنے سے محفوظ رہنے کیلئے ایسا قدم اٹھا رہے ہیں، آپ براہ کرم شریعت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمالیں کہ ایسا نکاح جائز ہے یا نہیں؟

جواب

عزیزم!  کیا ہی اچھا ہوتا اگرآپ خودکشی کی حرمت کی طرح کسی نامحرم سے تعلقات کی حرمت کو بھی سمجھتے، جس محبت کو آپ پاکیزہ کہ رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو زنا کے مقدمات اور پیش خیمہ قرار دیا ہے، نامحرم کو دیکھنا، تنہائی میں ملاقاتیں کرنا ایمان کے نور سے محرومی کا باعث بنتا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں اللہ جل شانہ کو ناراض کرکےآپ خوشگوار زندگی گذار سکیں گے؟ ہرگز نہیں! صدق دل سے اللہ سے اپنے اس جرم کی معافی مانگیں، ان ناجائز تعلقات کو ترک کریں پھر دیکھیں آپ کو ایمان کی کیسی لذت اور حلاوت محسوس ہوتی ہے۔ رہی لڑکی کے ولی کے بغیر نکاح والی بات تو یاد رکھئے   نکاح کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ لڑکی کا ولی لڑکی کا نکاح کروائے،بغیر ولی کی اجازت سے کیا گیا نکاح اکثر ائمہ کے یہاں منعقد ہی نہیں ہوتا، بلکہ ولی کی اجازت کے بغیر کیا گئےنکاح کے بعد ازدواجی تعلقات قائم کرنا ان کے نزدیک زنا کے مترادف ہیں۔ حنفیہ کے نزدیک  ولی کی اجازت کے بغیر نکاح اگرچہ منعقد تو ہوجاتا ہے لیکن  سخت ناپسندیدہ اورانتہائی معیوب ہے اوراگر لڑکا لڑکی کا ہم پلہ نہ ہوتو لڑکی کے  اولیاء اس نکاح کو بذریعہ عدالت فسخ  کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس لیئے بہتر یہ ہے کہ دونوں خاندانوں کی باہمی مشاورت سے ہی یہ نکاح کیا جائے۔ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143707200030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں