بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بغیر گواہوں کے نکاح کا حکم


سوال

اگر بغیر گواہ کے نکاح ہوگیا تو کیا صحیح ہوگیا؟

جواب

دو مسلمان عاقل بالغ مردگواہوں  یا ایک مسلمان مرد اور دو مسلمان عورتوں کی موجودگی کے بغیر  مسلمان کا نکاح قطعاً درست نہیں ہوگا۔لہٰذا اگر گواہوں کے بغیر نکاح کیا گیا تو نکاح ہوا ہی نہیں ہے، اب اگر میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا چاہییں تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا ہوگا۔

"عن عمران بن حصین، أن النبي صلی اﷲ علیه وسلم قال: لانکاح إلا بولي، وشاهدي عدل". (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۱۸/۱۴۲، رقم:۲۹۹، مصنف عبد الرزاق، المجلس العلمي۶/۱۹۵، رقم:۱۰۴۷۳)
"ولاینعقد نکاح المسلمین إلابحضور شاهدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل، و امرأ تین". (الهداية، کتاب النکاح اشرفیه دیوبند ۲/۳۰۶)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200079

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے