بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

بطور ٹیکسی چلائی جانے والی گاڑی پر زکاۃ کا حکم


سوال

  ہمارے پاس ایک کار ہے جس کو بطور ٹیکسی چلاتے ہیں اور جب کار پرانی ہوجاتی ہے یا مسئلہ ہوتا ہے تو فروخت کرکے دوسری خریدتےہیں۔کیا اس پر زکاۃہے؟ اور ہمارے گھر میں سونا بھی ہے لیکن 7 تولہ سے کم ہے نقد رقم موجود نہیں ہے۔گھر میں سامان موجود ہے، جیسے: کھانے کے برتن ،کپڑے ،ریفریجریٹر وغیرہ اور ایک گائے بھی ہے، کاشت کی زمین 2 ایکڑ ہے۔کیا ان پر زکاۃفرض ہے؟

جواب

کار جو بطورٹیکسی استعمال کرنے کے لیے خریدی جاتی ہے اس کی مالیت پر زکاۃ فرض نہیں ہے، اسی طرح 7 تولہ سونا ،گھر کاسامان  ،ایک گائے اور کاشت کی زمین پر بھی زکاۃ فرض نہیں ہے، (بشرطیکہ نقد رقم گھر، بینک یا کسی جگہ بھی موجود نہ ہو)البتہ اگر ضرورت سے زائدمعمولی مقدار  میں بھی ایسی نقدی موجود  ہو  جو سال کی ابتدا اور انتہا میں  (7 تولہ سونے کے ساتھ)جمع ہو تو سونے کے ساتھ مل کر اس پر زکاۃ لازم ہوگی ،نیز کاشت کی جانے والی پیداوار پر "عشر  " یعنی پیداوار کا دسواں حصہ ادا کرنا لازم ہوگا ۔ فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143907200083

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے