بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1441ھ- 04 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

بزرگوں کے ہاتھوں کو بوسہ دینا


سوال

کیا عقیدت کے لیے اپنے قائد مولانا ۔۔۔ صاحب کے ہاتھوں کو بوسہ دے سکتے ہیں؟

جواب

اگر کسی بزرگ کے ہاتھ پرعقیدت سے بوسہ دیا جائے تو  ایسا کرنا جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ بوسہ دیتے وقت رکوع یا سجدے کی حد تک جھکنے سے احتراز کرنا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 380):
"(وكره) تحريماً قهستاني (تقبيل الرجل) فم الرجل أو يده أو شيئاً منه، وكذا تقبيل المرأة المرأة عند لقاء أو وداع، قنية، وهذا لو عن شهوة، وأما على وجه البر فجائز عند الكل، خانية، وفي الاختيار: عن بعضهم لا بأس به إذا قصد البر وأمن الشهوة كتقبيل وجه فقيه ونحوه". 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 380):
"(قوله: وأما على وجه البر فجائز عند الكل) قال الإمام العيني بعد كلام: فعلم إباحة تقبيل اليد والرجل والرأس والكشح كما علم من الأحاديث المتقدمة إباحتها على الجبهة، وبين العينين وعلى الشفتين على وجه المبرة والإكرام اهـ".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200625

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں