بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بریرہ نام کے معنی


سوال

بیٹی کا نام بریرہ (صحابیہ کے نام پر) رکھا ہے، آپ کی سائٹ میں اس کے معانی ایک درخت لکھے ہیں، اکثر جگہ اس کی معانی "نیک، عبادت گزار، پرہیزگار" لکھے ہیں، وضاحت کردیں.  دوسرا کہتے  ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بات نہیں مانی تھی، راہ نمائی فرمادیں، کیا ایسا سوچنا گم راہی تو نہیں؟

جواب

’’بریرہ‘‘  نام ’’بر‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معانی نیکی، طاعت،سچ اوراحسان کے آتے ہیں، اس لحاظ سے بریرہ کا معنی : نیک، مطیع، سچی  اور محسن عورت کرسکتے ہیں۔

المصباح المنیر میں ہے کہ : ’’بریرہ‘‘  پیلو  درخت کے اس پھل کو کہتے ہیں جو مضبوط اور سخت ہوچکا ہو، اسی وجہ سے عورت کو بھی ’’بریرہ‘‘  کہتے ہیں ۔ لہٰذا بریرہ کے دونوں معانی درست ہیں، نیز صحابہ کرام وصحابیات مکرمات کے ناموں میں معنیٰ سے زیادہ نسبت ملحوظ ہوتی ہے، اگر ان کے ناموں میں سے کسی کا معنٰی ظاہراً مناسب نہ لگ رہاہو تو بھی نسبت کی وجہ سے نام رکھ سکتے ہیں۔

حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باندی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب انہیں آزاد کیا تو شرعی حکم کے اعتبار سے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے نہ رہنے کا اختیار تھا، ان کے شوہر حضرت مغیث رضی اللہ عنہ انہیں بہت چاہتے تھے،  وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں ان کے پیچھے گھومتے تھے ، ان کے آنسو ان کی ڈاڑھی پر بہتے تھے ، نبی کریم ﷺ نے ان کی یہ حالت دیکھ کر حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ : اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاؤ؟ تو انہوں نے سوال کیا کہ : اے اللہ کے رسول ! یہ آپ کا حکم ہے؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا کہ : میں سفارش کررہا ہوں (حکم نہیں دے رہا) تو انہوں نے کہا کہ : مجھے مغیث کی ضرورت نہیں. اس روایت میں واضح طور پر یہ موجود ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تھا کہ : یہ حکم ہے یا سفارش؟ کیوں کہ اگر حکم ہوتا تو وہ ہر گز اس کی مخالفت نہیں کرتیں، لہذا یہ کہنا درست نہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بات نہیں مانی تھی۔

المصباح المنير في غريب الشرح الكبير - (1 / 260):

"فيقال: أبر الله تعالى الحج وأبررت القول واليمين والمبرة، مثل: البر والبرير مثال كريم ثمر الأراك إذا اشتد وصلب الواحدة بريرة وبها سميت المرأة".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (5 / 2095):

"وعن ابن عباس قال: «كان زوج بريرة عبداً أسوداً يقال له: "مغيث"، كأني أنظر إليه يطوف خلفها في سكك المدينة، ودموعه تسيل على لحيته، فقال النبي صلى الله عليه وسلم للعباس: يا عباس، ألا تعجب من حب مغيث بريرة، ومن بغض بريرة مغيثاً، فقال النبي: لو راجعتيه! فقالت: يا رسول الله تأمرني؟ قال: إنما أشفع، قالت: لا حاجة لي فيه» . رواه البخاري".

و في الشرح:

"و فيه إيماء إلى عذرها في عدم قبول شفاعته صلى الله عليه وسلم حيث قال تعالى: {وبعولتهن أحق بردهن في ذلك إن أرادوا إصلاحاً}، قال ابن الملك: فيه دلالة على أن بريرة فرقت بين أمر النبي صلى الله عليه وسلم وشفاعته، وعلمت أنه للوجوب دونها اهـ، وفي الحديث شفاعة الإمام إلى الرعية وهي من مكارم الأخلاق السنية، وعدم وجوب قبولها وعدم مؤاخذة الإمام على امتناعها وإن العداوة لسوء الخلق وخبث المعاشرة جائزة، وإنه لا بأس بالنظر إلى المرأة التي يريد خطبتها واتباعه إياها".

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5 / 2095):

"(عن عروة عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لها في بريرة:) أي: في شأنها وأمر شرائها (خذيها) أي: من مواليها باشترائها (فأعتقيها، وكان زوجها عبداً، فخيرها) أي: بريرة (رسول الله صلى الله عليه وسلم) أي: بين فسخ النكاح وإمضائه (فاختارت نفسها ولو كان حراً لم يخيرها)".

الإصابة في تمييز الصحابة - (7 / 535):

"بريرة مولاة عائشة قيل: كانت مولاة لقوم من الأنصار، وقيل: لآل عتبة بن أبي إسرائيل، وقيل: لبني هلال، وقيل: لآل أبي أحمد بن جحش، وفي هذا القول نظر، فقد تقدم في ترجمة زوجها معتب أنه هو الذي كان مولى أبي أحمد بن جحش، والثاني خطأ، فإن مولى عتبة سأل عائشة عن حكم هذه المسألة فذكرت له قصة بريرة، أخرجه بن سعد وأصله عند البخاري: فاشترتها عائشة فأعتقتها، وكانت تخدم عائشة قبل أن تشتريها، وقصتها في ذلك في الصحيحين، وفيهما عن عائشة كانت في بريرة ثلاث سنن، الحديث. وفيه: الولاء لمن أعتق، وقد جمع بعض الأئمة فوائد هذا الحديث فزادت على ثلاثمائة، ولخصتها في فتح الباري. وأخرج النسائي من طريق يزيد بن رومان عن عروة عن بريرة قالت: كان في ثلاث سنن، الحديث. ورجاله موثقون، لكن قال النسائي: إنه خطأ، يعني والصواب عروة عن عائشة، وذكرها أبو عمر من طريق عبد الخالق بن زيد بن واقد عن أبيه أن عبد الملك بن مروان قال: كنت أجالس بريرة بالمدينة، فكانت تقول لي: يا عبد الملك إني أرى فيك خصالاً، وإنك لخليق أن تلي هذا الأمر، فإن وليته فاحذر الدماء، فأني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول: إن الرجل ليدفع عن باب الجنة بعد أن يظهر إليه بملء محجمة من دم يريقه من مسلم بغير حق". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201598

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے