بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بروکری و کمیشن لینا کس کے لیےجائز ہے؟


سوال

ایک آدمی میرے ساتھ کاروبار کرنا چاہتا ہے، مگر  میرے پاس وقت نہ ہونے کی وجہ سے میں اس کو کہتا ہوں:  فلاں آدمی کے ساتھ کاروبار کرلو ، میں اس کی ضمانت دیتاہوں، وہ آدمی ٹھیک ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو میں ضامن ہوں، مگر آپ جب بھی اس سے سامان خریدوفروخت کرو گے مجھے 5 فیصد کمیشن دو گے۔ آیا کہ میرا یہ کمیشن لینا درست ہے یا نہیں؟ اگر کوئی اور جواز صورت ہو تو وہ بتا دیں۔

جواب

واضح رہے کہ  دلالی ( بروکری) لینا شرعاً اس وقت جائز ہوتا ہے جب کہ بروکر سامان کی خریداری یا فروخت کرنے میں اپنا کردار ادا کرے،  پس جب جب وہ کردار ادا کرے اس کے لیے بروکری یا کمیشن وصول کرنا جائز ہوتا ہے، البتہ اگر کسی پارٹی سے مال ڈلوانے کے بعد وہ دونوں پارٹیاں  ڈائریکٹ ہوکر بعد میں کوئی سودا کرتے ہیں، جس میں تعارف کرانے والے شخص کی کوئی سعی و کوشش نہیں ہو تو ایسی صورت میں تعارف کرانے والے شخص کوکمیشن کے مطالبہ کا شرعاً حق نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں جس سودا کروانے  میں آپ بنفسِ  نفیس شریک ہوں اس میں کمیشن متعین کرکے لینا آپ کے لیے جائز ہوگا، بصورتِ  دیگر کمیشن کے مطالبہ کا آپ کو حق نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200602

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے