بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شوال 1445ھ 24 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

برطانیہ میں رویت ہلال کا مسئلہ


سوال

میں لندن میں کچھ عرصے سے مقیم ہوں،میراتعلق پاکستان کے شہرکراچی سے ہے،میراسوال یوکے میں موجوددیوبندمسلک سے منسلک تمام لوگوں کی طرف سے ہے،جویہاں کے علماء کے اختلافات سے شدیدپریشانی کاشکارہیں،میری رہائش لندن میں ہے اورایک ایسے روڈ پرہے جس کے دونوں جانب دیوبندمسلک کی مساجدموجودہیں،لیکن بات جب رمضان کے چاندیاعیدکے چاندکی ہوتی ہے تودونوں میں اختلاف ہوجاتاہے،ایک مسجدوالے وفاق العلماء کومانتے اوردوسری مسجدوالے حزب العلماء کومانتے ہیں،براہ کرم مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں بتادیں کہ ہم کس کی رائے پرعمل کریں؟چاند کے معاملے میں سعودیہ کے ساتھ رمضان اورعیدکریں جیسے حزب العلماء کہتے ہیں ؟یاپانچ چھ سال قبل وجودمیں آنے والی جماعت وفاق العلماء کوجوپہلے یوکے میں چاند دیکھنے کی درخواست کرتی ہے اورشہادتیں مل جائیں توا سکی بنیادپرفیصلہ کرتی ہے ورنہ ساؤتھ افریقہ یاموروکی بنیادپرچاندکااعلان کرتی ہے۔

وفاق العلماء کے حامی لوگوں کاکہناہے کہ سعودیہ والوں کی اقتداکرناسنت اورحدیث کے خلاف ہے،اورمزیدیہ کہ سعودیہ کی رؤیت کااعتبارنہیں ہے،

حزب العلماء کاموقف یہ ہے کہ یہ مسئلہ 1983میں حل ہوگیاہے اورسعودیہ کے ساتھ رؤیت پرسب کااتفاق ہوگیاتھاسوائے چندعلماء کے۔

نوٹ:تبلیغی جماعت کی مساجد،جماعت اسلامی کی مساجداورعرب کی مساجدسعودیہ والوں کے ساتھ ہیں۔

سوال یہ ہے کہ دونوں میں سے کس کامؤقف درست ہے؟آیاہم اتفاق برقراررکھنے کے لیے سعودیہ کی رؤیت ہلال پراعتمادکرلیں؟

جواب

کسی بھی ملک میں رہنے والے مسلمان چانددیکھ کررمضان اورعیدکریں؟ یادوسرے ملک کی رؤیت پراعتبارکرلیں ؟اس مسئلہ کوفنی اعتبارسے ’’اختلاف مطالع‘‘کہاجاتاہے۔اس سلسلہ میں راجح قول یہی ہے کہ قریبی ملکوں اورشہروں میں جوایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں اختلاف مطالع کااعتبارنہیں ،بلکہ ایک مقام پرنظرآنے والاچانددوسرے قریبی شہروں اورپڑوسی ملک کے لیے بھی حجت ہے۔البتہ اگرایک ملک دوسرے ملک سے کافی دور اورفاصلے پرواقع ہے،تواس صورت میں اختلاف مطالع کااعتبارہوگا،یعنی دوسرے ملک کے لیے الگ رؤیت کااعتبارہوگا۔وہاں کے باشندوں کوچاہیے کہ چانددیکھ کررمضان اورعیدکریں ۔اس قول کو علامہ زیلعی،علامہ کاسانیؒ نے ترجیح دی ہے،اوراکابرین دیوبندمیں سے علامہ انورشاہ کشمیریؒ،علامہ شبیراحمدعثمانی،مفتی محمدشفیع عثمانیؒ اورعلامہ سیدمحمدیوسف بنوری ؒ بھی اسی کے قائل تھے۔

اسی قول کی مؤیدروایت ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔

''کریب کہتے ہیں کہ  ام فضل بنت حارث نے مجھ کو امیر معاویہ کے پاس شام بھیجا کریب کہتے ہیں میں شام گیا اور ان کا کام پورا کیا، اسی اثنا میں رمضان آگیا پس ہم نے جمعہ کی شب چاند دیکھا پھر میں رمضان کے آخر میں مدینہ واپس آیا تو ابن عباس نے مجھ سے چاند کا ذکر کیا اور پوچھا کہ تم نے کب چاند دیکھا تھا میں نے کہا جمعہ کی شب کو، ابن عباس نے فرمایا تم نے خود دیکھا تھا میں نے کہا لوگوں نے دیکھا اور روزہ رکھا ،امیر معاویہ نے بھی روزہ رکھا۔ ابن عباس نے فرمایا ہم نے تو ہفتے کی رات چاند دیکھا تھا لہذ اہم تیس روزے رکھیں گے یا یہ کہ عیدالفطر کا چاند نظر آجائے ۔حضرت کریب کہتے ہیں میں نے کہا کیا آپ کے لئے امیر معاویہ کا چاند دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں؟ ابن عباس نے فرمایا نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح حکم دیا ہے''۔

 امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ ہر شہر والوں کے لئے انہیں کا چاند دیکھنا معتبر ہے۔

مذکورہ بالاتفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کاجواب یہ ہے کہ اگربرطانیہ میں مطلع صاف ہوابرآلود نہ ہو،اورچانددیکھنے میں کوئی دشواری بھی نہ ہوتوبجائے کسی دوسرے ملک کی رویت پراعتمادکرکے روزہ رکھنے کے خودبرطانیہ کے رہنے والوں کوچانددیکھ کررمضان اورعیدکرنی چاہیے۔

اوراگرمطلع صاف نہ ہوابرآلودہوجیساکہ عموماً برطانیہ میں ہوتاہے،اورچانددیکھنے میں دشواری ہواس صورت میں شرعی حکم یہ ہے کہ برطانیہ کے قریب ترین جوملک ہوجہاں شرعی ضوابط کے مطابق چانددیکھنے کااہتمام کیاجاتاہووہاں چاندنظرآجانے اوروہاں کی خبربرطانیہ پہنچنے پربرطانیہ کے مسلمانوں کورمضان اورعیدکرنی چاہیے۔

جولائی 1978ء میں ہندوستان کے نامورعالم دین حضرت مولانامفتی عبدالرحیم لاجپوری رحمہ اللہ کی صدارت میں برطانیہ میں ''رویت ہلال کمیٹی جمعیت علمائے  برطانیہ''کا رویت ہلال کے مسئلہ پراجلاس ہواتھا،جس میں  متفقہ طورپریہ فیصلہ کیاگیاتھا:

''مسلمانان برطانیہ اس امرپراتفاق کااظہارکرتے ہیں کہ رمضان اورعیدین کے لیے رویت ہلال کاوہ طریقہ اختیارکیاجائے گا جوسنت نبوی میں بتلایاگیاہے،اوراس کاطریقہ یہ ہوگاکہ:

الف:برطانیہ میں چانددیکھنے کی کوشش جغرافیائی امکان کی روشنی میں کی جائے گی،اورعلماء کی ایک کمیٹی ہوائی جہازکے ذریعے چانددیکھنے کی کوشش کرے گی ۔

ب:اگربرطانیہ میں مذکورہ طریقے سے چاند نظرنہ آئے توکسی اسلامی ملک سے رویت ہلال کی شرعی طورپرثابت ہونے والی شہادت کی خبر پرانحصارکیاجائے گا۔اوررویت ہلال کمیٹی مذکورہ بالاطریقے کی روشنی میں چاندکااعلان کرے گی،اوراس کی وسیع پیمانے پرتشہیرکااہتمام کیاجائے گا،تاکہ پورے جزائربرطانیہ میں ایک ہی دن رمضان کاآغازاوراختتام ہوسکے''۔

مزیدتفصیل کے لیے فتاویٰ رحیمیہ جلددہم ،کتاب الحظروالاباحۃ،ملاحظہ فرمائیں۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143709200019

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں