بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

برتن یا پانی کی ٹنکی میں بلی نے منہ ڈال دیا


سوال

اگر کسی بھی پانی کے برتن یا ٹینکی میں بلی منہ ڈال دے تو اس پانی کا کیا حکم ہے؟ اس پانی کو پینے کے لیے یا  وضو  و غسل کے لیے استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ایسے پانی کا استعمال مکروہ تنزیہی ہے، تاہم اگر نعم البدل با سہولت میسر نہ ہو تو ایسے پانی کے استعمال میں  کراہت باقی نہیں رہتی، البتہ بالیقین چوہا کھانے کے فوراً  بعد بلی نے پانی میں منہ ڈالو ہو تو اس صورت میں پانی ناپاک ہوجائے گا، اس کا استعمال کسی طور پر جائز نہ ہوگا۔

تفصیل کے لیے دیکھیے:

https://www.banuri.edu.pk/readquestion/بلی-برتن-میں-منہ-ڈال-دے-144104200771/21-12-2019

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200843

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے