بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نسوار وغیرہ منہ میں رکھ کر تلاوت، دعائیں اور درود شریف پڑھنے کا حکم


سوال

 نسوار منہ میں ہو اور دل دل میں موقع محل کی دعا پڑھنا،  ﷲ کا نام لینا، درود شریف پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

منہ میں بدبو دار اَشیاء  (مثلاً نسوار وغیرہ)رکھ کر قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے، اللہ تعالیٰ کا نام لینے اور درود شریف وغیرہ پڑھنے سے بے ادبی لازم آتی ہے، اس لیے بدبو دار اشیاء (نسوار وغیرہ ) منہ میں ہونے کی حالت میں زبان سے تلاوت کرنا، دعا میں اللہ کا نام لینا اور درود شریف وغیرہ پڑھنا مکروہ ہے، نیز اس میں اعمال لکھنے والے فرشتوں کی ایذا بھی ہے،   البتہ زبان سے  تلفظ  کیے بغیر دل دل میں ہی پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے،  لیکن زیادہ اچھا یہ ہے کہ منہ دھو کر زبان سے ہی ذکر و تلاوت کی جائے، کیونکہ تلاوت وغیرہ کا اصل ثواب زبان سے پڑھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔

باقی اگر کسی کے منہ میں نسوار وغیرہ ہو اور کسی موقع کی دعا کی مناسبت ہو، (مثلاً گھر میں داخل ہونے یا نکلنے کی دعا وغیرہ) اور اس حالت میں دعا پڑھ لی تو یہ ناجائز نہیں ہے، بہتر تو یہی ہے کہ ایسی چیزیں استعمال نہ کی جائیں، لیکن کسی جگہ نسوار تھوک کر کلی کرنے کا موقع نہ ہو اور اس موقع کی مسنون دعا پڑھنی ہو تو دعا پڑھ لینی چاہیے، منہ میں نسوار ہونے کی وجہ سے دعا ترک نہیں کرنی چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 460):

"قلت: فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن، فتنبه، وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته إلحاقا له بالثوم والبصل بالأولى، فتدبر.

 (قوله: وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته) أقول: ظاهر كلام العمادي أنه مكروه تحريماً ويفسق متعاطيه، فإنه قال في فصل الجماعة: ويكره الاقتداء بالمعروف بآكل الربا أو شيء من المحرمات، أو يداوم الإسرار على شيء من البدع المكروهات كالدخان المبتدع في هذا الزمان ولا سيما بعد صدور منع السلطان اهـ. ورد عليه سيدنا عبد الغني في شرح الهدية بما حاصله ما قدمناه، فقول الشارح إلحاقاًله بالثوم والبصل فيه نظر، إذ لايناسب كلام العمادي، نعم إلحاقه بما ذكر هو الإنصاف. قال أبو السعود: فتكون الكراهة تنزيهية، والمكروه تنزيهاً يجامع الإباحة اهـ. وقال ط: ويؤخذ منه كراهة التحريم في المسجد للنهي الوارد في الثوم والبصل وهو ملحق بهما، والظاهر كراهة تعاطيه حال القراءة لما فيه من الإخلال بتعظيم كتاب الله تعالى اهـ". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200509

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے