بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

بجلی کے بل پر جرمانہ لگا نا اور ادا کرنا


سوال

کیا بجلی کے بل پر جرمانہ لگا نا اور ادا کرنا جائز ہے؟

جواب

مختلف بلوں پر جو زائد رقم وصول کی جاتی ہے وہ تعزیرِ مالی ہے اور تعزیر مالی کی شرعاً اجازت نہیں ہے، اس طریقے پر مال حاصل کرنا جائز نہیں ہے،  البتہ وقت پر بل کی ادائیگی  کرکے اس سے بچنا ممکن ہے، لہٰذا گنجائش ہونے کی صورت میں لازم ہے کہ مالی جرمانہ لگنے سے پہلے پہلے بل ادا کیا جائے۔ اور مالی وسعت نہ ہونے کی صورت میں اگر تاخیر کی وجہ سے جرمانہ لگ جائے تو عام شہری کے لیے مجبوری کی حالت میں اضافی رقم دینے کی صورت میں امید ہے کہ اس کا مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ 

متعلقہ ذمہ داران کو چاہیے کہ صارفین کو بروقت ادائیگی پر پابند کرنے کے لیے کوئی جائز متبادل تجویز کریں۔مثلاً: جو دو ماہ تک بروقت ادائیگی نہیں کرے گا اس کا کنکشن منقطع کردیا جائے گا۔  یا ایک دو ماہ جو صارف بروقت ادائیگی نہیں کرے گا اس سے ادارے کا کنٹریکٹ ختم ہوجائے گا، اور آئندہ مہینے سے اس کے کنٹریکٹ کی تجدید ہوگی، اور آئندہ یونٹ کی قیمت زائد ہوجائے گی، وغیرہ۔ 

"وفي البحر: ولایکون التعزیر بأخذ المال من الجاني في المذهب". (مجمع الأنهر، ۲/ ۳۷۱) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008202065

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں