بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

باہمی تعاون کے لیے رقم جمع کرنے اور اس سے میت کے اہل خانہ کے ساتھ تعاون کا حکم


سوال

ہمارے علاقے میں لوگوں نے ایک تنظیم قائم کی ہے، جس کے تحت وہ پیسے اکٹھے کرتے ہیں،  جب کسی کے گھر میں کوئی فوت ہوجائے تووہ ان گھر والوں کے لیے اور ان کے مہمانوں کے لیے خوراک کا انتظام کرتے ہیں۔تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اور اہل محلہ والوں کے لیے  اس خوراک کا کھانا جائز ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں رقم  جمع کرکے برادری اور اہل محلہ کی ضیافت کا اہتمام کرنا اور اسی کے لیے رقم جمع کرنا شرعاً درست نہیں۔اس سے اجتناب لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

نوٹ: مزید تفصیل کے لیے جامعہ سے جاری شدہ دو فتاویٰ کے لنک ملاحظہ کیجیے:

میت یونین کمیٹی کا شرعی حکم

 میت کی تجہیز و تکفین کے لیے قائم کمیٹیوں کی شرعی حیثیت


فتوی نمبر : 144012200954

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے