بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

باپ کے نیچے دب کر بچی مر جائے تو کیا حکم ہے؟


سوال

میری بیٹی تقریبًا تین سال کی تھی، میری نیند  کی بھاری گولیوں کے کھانے کی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی، میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس میں اللہ کی رضا ہے یا میری غلطی ہے یا لا پرواہی ہے؟ مجھے صبر نہیں مل رہاہے!

جواب

آپ کے سوال میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ بچی  کی موت کس سبب سے ہوئی؟  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ گہری نیند میں تھےاور بچی  پر پلٹ گئے جس کی  وجہ سے بچی  کی موت واقع ہو گئی، اگر واقعہ ایسا ہی ہے تو اس قتل کو  "جاری مجری خطا"  (یعنی قائم مقامِ خطا) کہا جاتا ہے  اور اس کا حکم یہ ہے کہ بچی جس کے نیچے دب کر مری ہے اس  پرکفارہ اور دیت دونوں لازم ہیں، البتہ  اگر بچی کے وارثین  دیت معاف کردیں تو دیت  ساقط ہوجائے گی ۔

قتل جاری مجری خطا  کی دیت سو اونٹ یا ایک ہزار دینار یا دس ہزار درہم (جس کا اندازہ  جدید پیمانے سے 30.618 کلوگرام چاندی) یا اس کے برابر قیمت ہے۔ اور دیت میں حاصل شدہ مال مقتول کے ورثہ میں شرعی اعتبار سے تقسیم ہو گا، جو وارث اپنا حصہ معاف کردے گا، اس قدر معاف ہو جائے گا اوراگر سب نے معاف کر دیا تو سب معاف ہو جائے گا۔

نیز   کفارے میں مسلسل ساٹھ  روزے رکھنا قاتل پر لازم ہو گا، کفارہ کے روزے میں اگرمرض کی وجہ سے تسلسل باقی نہ رہے تو از سر نو رکھنے پڑیں گے۔

اور اگر ایسا نہیں ہے،  بلکہ آپ کے سوال کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی بیٹی نے آپ کی نیند کی گولیاں کھا لیں جس کی وجہ سے اس کی موت واقع ہو گئی تو اس صورت کا حکم  یہ ہے کہ یہ بچی کا اپنا فعل تھا جس کی وجہ سے اُس کی موت واقع ہوئی، گو اُسے شعور نہیں تھا، لیکن  اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں تھا، اس  لیے اس کو قتل نہیں کہا جائے  گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 531):

"(و) الرابع (ما جرى مجراه) مجرى الخطأ (كنائم انقلب على رجل فقتله)؛ لأنه معذور كالمخطئ، (وموجبه) أي موجب هذا النوع من الفعل وهو الخطأ وما جرى مجراه (الكفارة والدية على العاقلة) والإثم دون إثم القاتل إذ الكفارة تؤذن بالإثم لترك العزيمة.

 (قوله: والرابع ما جرى مجراه إلخ) فحكمه حكم الخطأ في الشرع، لكنه دون الخطأ حقيقة؛ فإن النائم ليس من أهل القصد أصلاً، وإنما وجبت الكفارة لترك التحرز عن نومه في موضع يتوهم أن يصير قاتلًا، والكفارة في قتل الخطأ إنما تجب لترك التحرز أيضًا، وحرمان الميراث لمباشرة القتل، وتوهم أن يكون متناعسًالم يكن نائمًا قصدًا منه إلى استعجال الإرث، والذي سقط من سطح فوقع على إنسان فقتله أو كان في يده لبنة أو خشبة فسقطت من يده على إنسان أو كان على دابة فأوطأت إنسانًا فقتله مثل النائم؛ لكونه قتلًا للمعصوم من غير قصد كفاية". 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 573):

"الدية في الشرع اسم للمال الذي هو بدل للنفس لا تسمية للمفعول بالمصدر، لأنه من المنقولات الشرعية. والأرش اسم للواجب فيما دون النفس (دية شبه العمد مائة من الإبل أرباعا من بنت مخاض وبنت لبون وحقة إلى جذعة) بإدخال الغاية (وهي) الدية (المغلظة لا غير و) الدية (في الخطإ أخماس منها ومن ابن مخاض أو ألف دينار من الذهب أو عشرة آلاف درهم من الورق) وقال الشافعي: اثنا عشر ألفا وقالا منها ومن البقر مائتا بقرة، ومن الغنم ألفا شاة ومن الحلل مائتا حلة كل حلة ثوبان إزار ورداء هو المختار. (وكفارتهما) أي الخطأ وشبه العمد (عتق قن مؤمن فإن عجز عنه صام شهرين ولاء ولا إطعام فيهما) إذ لم يرد به النص والمقادير توقيفية".

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200919

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں