بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بال نہ کاٹنے کے لیے یکم ذی الحجہ مقرر کرنے کی وجہ


سوال

حج کے ایام  5 روز ہوتے ہیں،  مشہابہت کےلیے 5روز کافی ہونے چاہیے تھے،  مگر قربانی کرنے والے کو عشرہ یعنی دس روز ناخن بال اور کھال کاٹنےکی ممانعت کے پیچھے کیا حکمتِ عملی ہو سکتی ہے؟

جواب

صحیح مسلم اور دیگر کتب میں ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آپ  ﷺ نےارشاد فرمایا : ’’جب ذوالحجہ کاپہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کسی کا قربانی دینے کا  ارادہ ہو تو وہ بال، ناخن یا کھال کا کچھ حصہ نہ کاٹے ، جب تک قر بانی نہ دے دے. ‘‘   ایک روایت میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ ذو الحجہ کا چاند طلوع ہوتے ہی ان چیزوں سے رک جائے۔

اس حدیث کی روشنی میں فقہاءِ کرام نے اس عمل کو مستحب قرار دیا ہے کہ جس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے اس کے لیے مستحب ہے کہ ماہِ ذی الحجہ کے آغاز سے جب تک قربانی کا جانور ذبح نہ کرے جسم کے کسی عضو سے بال اور ناخن صاف نہ کرے ، نیز بلاضرورت کھال وغیرہ بھی نہ کاٹے،   اور یہ استحباب صرف ان لوگوں کے لیے ہے جن کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو۔

اس حکم کی حکمت بعض علماءِ کرام نے حجاجِ کرام کی مشابہت قرار دی ہے، کہ جس طرح حاجیوں کے لیے دورانِ احرام ناخن اور بال کاٹنا ممنوع ہیں اسی طرح قربانی کرنے والوں کے لیے مشابہت کے طور پر یہ حکم ہے؛ تاکہ جو انوار و برکات اور رحمتیں حجاجِ کرام پر برس رہی ہیں، ان کا کچھ حصہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو بھی نصیب ہوجائے۔ کوئی قربانی کرنے والا اگر اس جذبے کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے عمل کرے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اس نیت پر بھی اجر عطا فرمائیں گے۔ لیکن صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ قربانی کرنے والوں کے لیے مذکورہ مستحب حکم (ذوالحجہ کے چاند نظر آنے سے قربانی کرنے تک بال اور ناخن یا جسم کا کوئی حصہ نہ کاٹنے) کی حکمت حاجیوں کی مشابہت نہیں ہے؛ کیوں کہ اگر حجاجِ کرام کی مشابہت مقصود ہوتی تو :

1- صرف قربانی کرنے والوں کے لیے یہ حکم نہ ہوتا، بلکہ پوری دنیا کے تمام مسلمانوں (خواہ قربانی واجب نہ ہو) کے لیے مشابہت مستحب ٹھہرتی، کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ حجاجِ کرام کی مشابہت میں یکم ذوالحجہ سے بال اور ناخن نہ کاٹیں۔ جب کہ احادیثِ مبارکہ میں یہ حکم صرف قربانی کرنے والوں کے لیے ہے۔ 

2- نیز حاجیوں کے لیے احرام کی حالت میں بال اور ناخن کاٹنے کی طرح خوش بو کا استعمال، جسم سے میل کچیل کو رگڑ کر صاف کرنا، سر ڈھانپنا وغیرہ ممنوعات بھی ہیں، اگر حاجیوں کی ہی مشابہت مقصود ہوتی تو دیگر امور میں بھی مشابہت ہونی چاہیے تھی۔ اگر کوئی یہ کہے کہ مشابہت من کل الوجوہ ہونا ضروری نہیں ہے!  تو  اگر دیگر ممنوعات میں مشابہت اختیار کرنا مستحب نہ بھی ہوتا تو کم از کم جواز تو ہونا چاہیے تھا، جب کہ اگر کوئی غیر حاجی حجاجِ کرام کی مشابہت کی نیت سے اگر میل کچیل صاف نہ کرے، بلکہ پراگندہ رہے اور خوش بو وغیرہ کے استعمال کا بالکل استعمال نہ کرے تو اسے منع کیا جائے گا۔ 

لہٰذا اس حکم کی حکمت کے حوالے سے راجح بات وہ ہے جو علامہ تورپشتی رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔

یکم ذی الحجہ سے بال اور ناخن وغیرہ نہ کاٹنے کی راجح حکمت:

قربانی کا مقصد درحقیقت جان کی قربانی ہے، یہی قربانی حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے پیش کرنا چاہی، دنبہ تو اس کے فدیے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے قبول فرمالیا۔ اور ہر سال قربانی کرکے درحقیقت اسی جذبہ جان نثاری وجاں سپاری کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے۔ جب اصل مقصد جان کی قربانی ٹھہرا تو گویا قربانی کرنے والے نے اپنے آپ کو  گناہوں کی وجہ سے عذاب  کا مستحق سمجھا، اور یہ سوچا کہ ان گناہوں کا کفارہ تو یہی ہوسکتاہے کہ میں ہلاک ہوجاؤں، اور میری جان خدا کے لیے قربان ہوجائے، لیکن شریعت نے جان کے فدیہ میں  جانور کی قربانی مقرر کردی، سو یہ جانور انسان کی نیابت میں قربان ہورہاہے، تو  قربانی کے جانور کا ہر جزو قربانی کرنے والے کے جسم کے ہر جز کا بدلہ ہے ۔ لہٰذا جس وقت جانور قربانی کے لیے خریدا جائے یا قربانی کے لیے خاص کیا جائے اس وقت انسانی جسم جس حالت میں ہو، مختص کردہ جانور اس انسانی جسم کے قائم مقام ہوجائے گا، اور جانور قربانی کے لیے خاص کرنے کے بعد جسم کا کوئی جز (نال، ناخن، کھال وغیرہ) کاٹ کر کم کردیا گیا تو گویا مکمل انسانی جسم کے مقابلے میں جانور کی قربانی نہیں ہوگی، جب کہ جانور انسانی جان کا فدیہ قرار پاچکاتھا۔ لہٰذا مناسب معلوم ہواکہ قربانی اور نزولِ رحمت کے وقت انسانی جسم کا کوئی عضو و جزو  کم ہو کر اللہ تعالیٰ کی  رحمت  اور فیضان الٰہی کی برکات سے محروم نہ رہے،تاکہ اس کو مکمل فضیلت حاصل ہو  اور وہ مکمل طور پر گناہوں سے پاک ہو ،  اس لیے آں حضرتﷺنے مذکور حکم دیا ہے ۔

یکم ذی الحجہ مقرر کرنے کی وجہ:

اس کے لیے قریب ترین کسی زمانے کی تعیین کی ضرورت تھی، یہ بھی ہوسکتا تھا کہ ہر شخص جب اپنا جانور خریدے یا قربانی کے لیے خاص کرے اسی وقت سے اسے ناخن یا بال کاٹنا منع ہو،  لیکن دینِ اسلام نے زندگی کے ہرمعاملے میں نظم وضبط اور نظام پر زور دیاہے، دین کی عبادات سے لے کر انفرادی اور اجتماعی احکام کو دیکھ لیاجائے، غور کرنے پر ہر حکم میں نظم وضبط واضح نظر آئے گا،  لہٰذا نظام کا تقاضا تھا کہ قربانی کرنے والے تمام مسلمانوں کے لیے ایک وقت مقرر کرکے نظم قائم کردیا جائے ، اس کے لیے ایک قریب ترین مدت مقرر کی گئی۔

پھر یہ بھی ہوسکتاتھا کہ عیدالاضحی سے ایک آدھ دن پہلے وقت مقرر کردیاجاتا، لیکن اس کے لیے ذی الحجہ کا چاند مقرر کیا گیا، اس لیے کہ قربانی کی عبادت کا تعلق عید الاضحٰی اور حج کی عبادت سے ہے، جیساکہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد عیدالفطر ہے، اور اسلام نے شرعی احکام کو اوقات کے ساتھ جوڑا ہے، اور ان کا مدار قمری مہینے اور تاریخ پر رکھاہے، چناں چہ رمضان المبارک چاند دیکھ کر شروع اور چاند دیکھ کر ختم ہوتاہے، ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی حج کی تیاری تقریباً اختتام کو پہنچتی ہے، اور ذی الحجہ کے چاند سے عیدالاضحیٰ کا دن اور صحیح وقت متعین ہوتاہے، لہٰذا قربانی کی تعیین میں بھی ذی الحجہ کے چاند کو دخل ہوا۔ نیزضمنی طور پر اس بات کی ترغیب بھی دے دی گئی کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قربانی کا جانور کچھ ایام پہلے لے کر پالیں، تاکہ ان سے انسیت قائم ہونے کے بعد قربانی کرنے سے نفس کی قربانی اور جان نثاری کے جذبات مزید ترقی پائیں۔ اسی طرح جانور جلدی لے کر، اس کی خدمت کرنے، اور بال، ناخن وغیرہ نہ کاٹنے سے جو میل کچیل کی کیفیت ہوگی تو اس سے انسان کو اپنی حقیقت کی طرف بھی دھیان ہو اور تواضع وعاجزی کی ترقی بھی بنے۔

 صحيح مسلم (3/ 1565):

"سمع سعيد بن المسيب، يحدث عن أم سلمة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا دخلت العشر، وأراد أحدكم أن يضحي، فلا يمس من شعره وبشره شيئاً»".

سنن النسائي (7/ 211):
"عن أم سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من رأى هلال ذي الحجة، فأراد أن يضحي، فلا يأخذ من شعره، ولا من أظفاره حتى يضحي»".
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (3/ 1081):
"قال التوربشتي: ذهب بعضهم إلى أن النهي عنهما للتشبه بحجاج بيت الله الحرام المحرمين، والأولى أن يقال: المضحي يرى نفسه مستوجبةً للعقاب وهو القتل، ولم يؤذن فيه، ففداها بالأضحية، وصار كل جزء منها فداءً كل جزء منه، فلذلك نهي عن مس الشعر والبشر ؛ لئلا يفقد من ذلك قسط ما عند تنزل الرحمة، وفيضان النور الإلهي، ليتم له الفضائل، ويتنزه عن النقائص. قال ابن حجر: ومن زعم أن المعنى هنا التشبه بالحجاج غلطوه بأنه يلزم عليه طلب الإمساك عن نحو الطيب ولا قائل به اهـ.وهو غلط فاحش من قائله ؛ لأن التشبه لا يلزم من جميع الوجوه، وقد وجه توجيهاً حسناً قي خصوص اجتناب قطع الشعر أو الظفر".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200009

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے