بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

باربار سلام کا جواب نہ دے تو دوبارہ سلام کرنا


سوال

اگر کوئی  بار بار سلام کا جواب نہ دے تو کیا دوبارہ سلام کرنا چاہیے؟

جواب

سلام کرنا سنت ہے، اور اس کا جواب دینا واجب ہے۔ لیکن بعض مواقع ایسے ہیں جن میں سلام نہیں کرنا چاہیے، اگر ان مواقع میں سے کسی موقع میں مشغول شخص کو کوئی سلام کرے تو اس کے ذمے جواب دینا واجب نہیں ہوتا۔  لیکن اگر ایسا کوئی موقع نہ ہو پھر بھی کوئی شخص جواب نہ دے تو بھی سلام کرنا سنت ہے۔آپ سلام کریں  امید ہے کہ سامنے والے کا دل نرم ہو گا،  حدیث شریف میں ہے کہ  اس سے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے۔

رواه مسلم في صحيحه من حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلاتُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ؟ أَفْشُوا السَّلامَ بَيْنَكُمْ ".

علامہ شامی رحمہ اللہ اور دیگر فقہاءِ کرام نے وہ جگہیں لکھی ہیں جن میں سلام نہیں کرنا چاہیے، ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

مثلاًً: قضاءِ حاجت یا وضو میں مشغول شخص، ذکر، نماز یا بلند آواز سے تلاوت میں مشغول شخص،  اذان یا اقامت یا خطبہ جمعہ و عیدین کے دوران، یا کوئی بھی بیان و وعظ کرنے والے کو سلام کرنا، یا علمی مذاکرے میں مشغول شخص ، یا تدریس کے دوران شاگرد یا غیر متعلق شخص کا مدرس کو سلام کرنا، یا بھکاری کا سلام کرنا یا مفتی اور قاضی اور مدرس کو اس کی مسند پر، یا کھانے میں مشغول شخص کو، یا دو شخص جو آپس میں اس انداز سے گفتگو کررہے ہوں کہ تیسرے شخص کے ان کی گفتگو میں شامل ہونے اور سلام کرنے سے انہیں تکلیف یا حرج ہو وغیرہ۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 617):
"(قوله: وقد زدت عليه المتفقه على أستاذه) كما في القنية والمغني ومطير الحمام، وألحقته، فقلت كذلك أستاذ إلخ، هكذا يوجد في بعض النسخ، وهو من تتمة عبارة صاحب النهر، والبيت المذكور من نظمه (قوله: كذلك أستاذ) فيه أن الصحابة - رضي الله عنهم - كانوا يسلمون على النبي صلى الله عليه وسلم ح عن شيخه. والجواب أن المراد السلام عليه في حالة اشتغاله بالتعليم كما يأتي، وبه يعلم أنه داخل في النظم السابق في قوله: مدرس، وكذا المغني ومطير الحمام داخلان في قوله: وشبه بخلقهم كما نبهنا عليه، ولكن الغرض ذكر ما وقع التصريح به في كلامه". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201381

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے