بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بارہ (۱۲) سالہ بچے کے اذان دینے کا حکم


سوال

ایک بچہ جس کی عمر 12سال ہے وہ اذان بہت پیاری دیتا ہے، کیا اس سے مسجد میں اذان دلوا سکتے ہیں؟ لوگ بھی اس کی پیاری آواز کی وجہ سے اس سے اذان دلوانے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں، میں نے ان سے کہا کہ میں دارالافتاء سے پوچھ کر بتاؤں گا؛ کیوں کہ بلوغت کے آثار ظاہر نہیں ہوئے۔

جواب

افضل یہ ہے کہ اذان  بالغ مرد یا لڑکا ہی دے، البتہ ایسالڑکا جو بلوغت کے قریب ہو وہ بھی اذان دے سکتا ہے،لیکن نابالغ ناسمجھ بچے کا اذان دینا مکروہ ہے۔ لہٰذا مذکورہ بارہ (۱۲) سالہ بچہ اگر بالغ نہیں ہوا ہو تب بھی وہ اذان دے سکتا ہے، البتہ افضل یہی ہے کہ کسی  بالغ مرد یا لڑکے سے ہی اذان دلوائی جائے۔

نوٹ: قریب البلوغ لڑکا اگر امرد ہو (یعنی اس کی ڈاڑھی نہ آئی ہو ) اور چہرے یا آواز کے حسن کی وجہ سے اذان دینے کی صورت میں لوگوں کے اس کی طرف متوجہ ہوکر فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو پھر ایسے بچے سے اذان نہیں دلوانی چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 391):

"(ويجوز) بلا كراهة (أذان صبي مراهق).

(قوله: بلا كراهة) أي تحريمية؛ لأن التنزيهية ثابتة؛ لما في البحر عن الخلاصة: أن غيرهم أولى منهم. اهـ. ح.

أقول: وقدمنا أول كتاب الطهارة الكلام في أن خلاف الأولى مكروه أولا، فراجعه.

(قوله: صبي مراهق) المراد به العاقل وإن لم يراهق، كما هو ظاهر البحر وغيره، وقيل: يكره لكنه خلاف ظاهر الرواية، كما في الإمداد وغيره، وعلى هذا يصح تقريره في وظيفة الأذان، بحر".

الفتاوى الهندية (1/ 54):

"أذان الصبي العاقل صحيح من غير كراهة في ظاهر الرواية ولكن أذان البالغ أفضل وأذان الصبي الذي لايعقل لايجوز، ويعاد وكذا المجنون. هكذا في النهاية.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 150):

(منها): أن يكون رجلاً، فيكره أذان المرأة باتفاق الروايات؛ لأنها إن رفعت صوتها فقد ارتكبت معصيةً، وإن خفضت فقد تركت سنة الجهر؛ ولأن أذان النساء لم يكن في السلف فكان من المحدثات، وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم: «كل محدثة بدعة»، ولو أذنت للقوم أجزأهم حتى لاتعاد؛ لحصول المقصود وهو: الإعلام.

وروي عن أبي حنيفة أنه يستحب الإعادة وكذا أذان الصبي العاقل، وإن كان جائزاً حتى لايعاد ذكره في ظاهر الرواية؛ لحصول المقصود وهو: الإعلام، لكن أذان البالغ أفضل؛ لأنه في مراعاة الحرمة أبلغ وروى أبو يوسف عن أبي حنيفة أنه قال: أكره أن يؤذن من لم يحتلم؛ لأن الناس لايعتدون بأذانه، وأما أذان الصبي الذي لايعقل فلايجزئ ويعاد؛ لأن ما يصدر لا عن عقل لايعتد به كصوت الطيور".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 279):

"وأما العقل فينبغي أن يكون شرط صحة؛ فلايصح أذان الصبي الذي لايعقل والمجنون والمعتوه أصلاً، وأما الصبي الذي يعقل فأذانه صحيح من غير كراهة في ظاهر الرواية إلا أن أذان البالغ أفضل، كذا في السراج الوهاج. وفي المجمع: ويكره أذان الصبي ويجزئ، وأطلقه فعلى هذا يصح تقريره في وظيفة الأذان". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200775

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے