بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

اے ٹی ایم سے کھانے کے بل کی ادائیگی پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کا حکم


سوال

آج کل بعض ہوٹلوں میں کھانا کھایا جائے تو بینک کی طرف سے اے ٹی ایم کارڈ پہ 30% یا 25% ڈسکاؤنٹ ملتا ہے، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

اے ٹی ایم کے ذریعے کھانے کے بل کی ادائیگی کی صورت میں تھوڑی تفصیل ہے: اگر  یہ سہولت کریڈٹ کارڈ پر مل رہی تو جائز نہیں، اس لیے کہ کریڈٹ کارڈ کا معاملہ ہی سود پر مشتمل ہونے کی بنا پرناجائز ہے۔ اور اگر ڈیبٹ کارڈ پریہ سہولت حاصل ہورہی ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ ڈسکاؤنٹ بینک کی طرف سے ہے یا ہوٹل کی طرف سے، اگر بینک کی طرف سے ڈسکاؤنٹ ہو تو شرعا ربوا کے زمرے میں آنے کی بنا پر  جائز نہیں، البتہ ہوٹل کی طرف سے ہو تو جائز ہے اور اگر یہ واضح نہ ہو کہ ڈسکاؤنٹ بینک طرف سے ہے یا ہوٹل کی طرف سے، تب احتیاط اسی میں ہے کہ اس سہولت کو استعمال نہ کیا جائے. فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143802200038

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے