بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایک پلاٹ بیچ کر دوسرے پلاٹ پر گھر بنانے کی نیت کرنا


سوال

میں اسلام آباد میں جاب کرتا ہوں، اور یہاں میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ جس سے میں اپنا گھر خرید سکوں، میری اکثر تنخواہ کرائے میں چلی جاتی ہے۔اس لیے میں نے اپنے تھوڑے پیسوں سے ٹیکسلا میں پلاٹ خریدا ہے ہے؛ تاکہ یہ تھوڑی رقم محفوظ رہے اور جب مزید رقم آجائے تو میں اسلام آباد میں ایک گھر خرید لوں، تو کیا میرے ٹیکسلا والے پلاٹ پر پر زکاۃ  ہے یا نہیں؟جب کہ میں نے یہ پلاٹ تجارت کی نیت سے نہیں خریدا بلکہ مجبوراً خریدا ہے.

جواب

آپ نے جو پلاٹ ٹیکسلا میں اس لیے خریدا ہے تاکہ مستقبل میں اس کو بیچ اسلام آباد میں ایک گھر لیا جائے۔تو ٹیکسلا والے پلاٹ کو  بیچنا مقصود ہے؛ لہذا اس پلاٹ کی قیمت میں بھی آپ پر زکاۃ لازم ہے۔

واضح رہے کہ تجارت کی نیت سے لینے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ عرف میں آدمی اس چیز کا تاجر ہو، بلکہ جس چیز کی بھی خرید و فروخت نفع کی نیت سے کی جائے یہی تجارت کی حقیقت ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200103

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے