بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایک دن میں دو بار اور کچھ عرصے بعد ایک طلاق دینے کی صورت میں ساتھ رہنے کا حکم، ایک مجلس کی متعدد طلاقوں کے بارے میں اہل حدیث کے فتوے کی شرعی حیثیت


سوال

میرے چچا نے چچی کو آٹھ سال پہلے طلاق دی تھی ایک دن میں دو بار، اور اب انہوں نے دوبارہ طلاق دےدی ہے تو اس طرح تو طلاق ہوگئی  ہے نا؟  ہم حنفی مسلک پر چلتے ہیں اور دیوبندی ہیں، لیکن اب چچا چچی سے دوبارہ رجوع کرنا چاہتے ہیں، اہلِ حدیث کے مطابق طلاق نہیں ہوئی اور انہوں نے فتویٰ دیا ہے اور اہلِ حدیث کے مفتی کے بقول طلاق کے معاملے میں دیوبندی سنی ہم سے فتویٰ لکھوا کر جاتے ہیں،  اب آپ بتائیے  کیا یہ درست ہے چچا اور چچی اب دوبارہ ساتھ رہیں گے تو یہ درست ہے گناہ تو نہیں ہوگا؟ اور کیا اب انہیں اہلِ حدیث مسلک پر چلنا ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں قرآن و حدیث، جمہور صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین بشمول ائمہ اربعہ ( یعنی حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کے متفقہ فتوی کی رو سے آپ کی چچی پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، دونوں کا نکاح ٹوٹ چکا ہے، بیوی اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، اب رجوع بھی جائز نہیں ہے اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی جائز نہیں ہے، سوال میں اہلِ حدیث حضرات کے جس فتویٰ کا ذکر کیا گیا ہے وہ فتویٰ قرآن و حدیث، جمہور صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین بشمول ائمہ اربعہ ( یعنی حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کے متفقہ فتوی کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ اعتبار ہے، اس لیے اگر آپ کے چچا اور چچی حلالہ شرعیہ کے بغیردوبارہ صرف رجوع یا نکاح کر کے ساتھ رہیں گے تو یہ ساتھ رہنا بدکاری کے زمرے میں آنے کی وجہ سے حرام ہوگا اور سخت گناہ کا باعث ہوگا۔

نوٹ:ایک مجلس کی متعدد طلاقیں متعدد ہی شمار ہوتی ہیں اس بارے میں تفصیلی دلائلکے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

ایک مجلس کی تین طلاقیں

بخاری شریف میں ہے:

"باب من أجاز طلاق الثلاثلقول الله تعالى: {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229]۔۔۔۔ حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»".

(کتاب الطلاق، باب من اجاز الطلاق الثلاث،ج:۷ ؍۴۲ ،۴۳ ،ط:دارطوق النجاة)

بدائع الصنائعمیں ہے:

"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثاً متفرقاً أو جملةً واحدةً ...وإنما تنتهي الحرمة وتحل للزوج الأول بشرائط منها النكاح، وهو أن تنكح زوجا غيره لقوله تعالى {حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] نفى الحل، وحد النفي إلى غاية التزوج بزوج آخر، والحكم الممدود إلى غاية لا ينتهي قبل وجود الغاية، فلا تنتهي الحرمة قبل التزوج، فلا يحل للزوج الأول قبله ضرورة ...ومنها أن يكون النكاح الثاني صحيحاً حتى لو تزوجت رجلا نكاحا فاسدا ودخل بها لا تحل للأول؛ لأن النكاح الفاسد ليس بنكاح حقيقة، ومطلق النكاح ينصرف إلى ما هو نكاح حقيقة ...ومنها الدخول من الزوج الثاني، فلا تحل لزوجها الأول بالنكاح الثاني حتى يدخل بها، وهذا قول عامة العلماء". (کتاب الطلاق، فصل في حکم الطلاق البائن،ج:۳ ؍۱۸۷ ،ط:سعید)

فتاویٰ عالمگیریمیں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية". (کتاب الطلاق، الباب السادس، فصل فیما تحل به المطلقة، ج:۱ ؍ ۴۷۳ ، ط:رشیدیة)

فتاویٰ شامیمیں ہے:

"وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث ... وعن هذا قلنا: لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف". (کتاب الطلاق،رکن الطلاق، ج:۳ ؍ ۲۳۳ ،ط:سعید )

شرح النوویمیں ہے:

"وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته: أنت طالق ثلاثاً، فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف: يقع الثلاث .... واحتج الجمهور بقوله تعالى: {ومن يتعد حدود الله فقد ظلم نفسه لاتدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمراً} قالوا: معناه أن المطلق قد يحدث له ندم فلايمكنه تداركه لوقوع البينونة فلو كانت الثلاث لاتقع لم يقع طلاقه هذا إلا رجعياً فلايندم، واحتجوا أيضاً بحديث ركانة أنه طلق امرأته ألبتة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ما أردت إلا واحدة، قال: الله ما أردت إلا واحدةً، فهذا دليل على أنه لو أراد الثلاث لوقعن وإلا فلم يكن لتحليفه معنى، وأما الرواية التي رواها المخالفون أن ركانة طلق ثلاثاً فجعلها واحدةً فرواية ضعيفة عن قوم مجهولين، وإنما الصحيح منها ما قدمناه أنه طلقها ألبتة ولفظ ألبتة محتمل للواحدة وللثلاث ولعل صاحب هذه الرواية الضعيفة اعتقد أن لفظ ألبتة يقتضي الثلاث فرواه بالمعنى الذي فهمه وغلط في ذلك، وأما حديث بن عمر فالروايات الصحيحة التي ذكرها مسلم وغيره أنه طلقها واحدةً، وأما حديث بن عباس فاختلف العلماء في جوابه وتأويله، فالأصح أن معناه أنه كان في أول الأمر إذا قال لها: أنت طالق أنت طالق أنت طالق ولم ينو تأكيداً ولا استئنافاً يحكم بوقوع طلقة لقلة إرادتهم الاستئناف بذلك فحمل على الغالب الذي هو إرادة التأكيد فلما كان في زمن عمر رضي الله عنه وكثر استعمال الناس بهذه الصيغة وغلب منهم إرادة الاستئناف بها حملت عند الإطلاق على الثلاث عملاً بالغالب السابق إلى الفهم منها في ذلك العصر، وقيل: المراد أن المعتاد في الزمن الأول كان طلقةً واحدةً وصار الناس في زمن عمر يوقعون الثلاث دفعةً فنفذه عمر فعلى هذا يكون إخباراً عن اختلاف عادة الناس لا عن تغير حكم في مسألة واحدة". (کتاب الطلاق، باب الطلاق الثلاث،ج:۱۰ ؍۷۰، ط:دار احیاءالتراث العربي ) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201484

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے