بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1441ھ- 06 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

ایک بیٹے کے لیے دفتر کی وصیت


سوال

زید کے والد کا دفتر تھا جو کرایہ پر دیا گیا تھا،  دفتر زید کے نام پر تھا،  آفس کا کرایہ زید اور اس کے والد کے مشترکہ بینک اکاؤنٹ میں آتا تھا،  زید کے والد اس رقم کو اپنے زندگی بھر خود استعمال کرتے تھے، زید کی والدہ کے مطابق، زید کے والد نے اپنے اہلِ  خانہ کے سامنے کہا تھا کہ میں اپنی زندگی کےدوران دفتر کے کرایہ کی یہ رقم استعمال کروں گا، اور میری موت کے بعد دفتر اور کرایہ کی رقم زید کی ہوگی۔ زید کے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ زید کا ایک بھائی اور ایک بہن ہے اور اس کی والدہ بھی زندہ ہیں۔ کیا اب دفتر اور اس کے کرائے کی رقم زید کی ملکیت ہے، یا یہ تمام ورثا کی ملکیت ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جب دفتر زید کے والدکا تھا اور مکمل قبضہ اور تصرف بھی اُن ہی کا تھا تو صرف زید کے نام پر کرنے سے زید اس دفتر کا مالک نہیں بنا تھا۔

زید کے والد کے مذکورہ الفاظ ’’میں اپنی زندگی کےدوران دفتر کے کرایہ کی یہ رقم استعمال کروں گا، اور میری موت کے بعد دفتر اور کرایہ کی رقم زید کی ہوگی‘‘ وصیت ہے،  اور وارث کے حق میں وصیت نافذ ہونے کے لیے دیگر ورثاء کی اجازت ضروری ہے، اگر دیگر تمام ورثہ عاقل و بالغ ہیں اور انہوں نے اجازت دی تو یہ وصیت نافذ ہوجائےگی، اور دفتر اور کرایہ کا مالک زید ہوگا۔ اگر کچھ بالغ ہیں کچھ نابالغ اور بالغ اجازت دیتے ہیں تو ان کے حق میں نافذ ہوجائے گی۔  اور اگر دیگر ورثاء نے اجازت نہیں دی تو وصیت نافذ نہیں ہوگی،  بلکہ کالعدم ہوجائے گی اور تمام ورثاء کا اس دفتر اور اس کے کرایہ میں حصہ ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 689):
"جعلته باسمك فإنه ليس بهبة".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 690):
"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 656):
"(إلا بإجازة ورثته)؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة»، يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201557

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں