بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوی کا اپنا حق زوجیت/ باری معاف کرکے طلاق سے صلح کرنا


سوال

ایک شادی کو 10 سال ہوچکے ہیں اور میاں اور بیوی کے درمیان محبت کا رشتہ قائم ہونا تو دور کی بات ہے، دونوں ایک دوسرے سے بے حد نفرت کرتے ہیں۔ رشتہ داروں اور دوستوں نے اس عرصے میں بہت کوششیں کیں، لیکن ان کا ازدواجی رشتہ خوش گوار نہ ہو سکا، ان کے 3 بچے بھی ہیں، نہ شوہر مزید اپنی بیوی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس کی بیوی اس کے ساتھ مزید رہنا چاہتی ہے، دونوں طلاق کے ذریعے ایک دوسرے سے الگ ہونا چاہتے ہیں،  لیکن ان کو اپنے بچوں کا اور طلاق کے بعد پیش آنے والے نتائج کا خیال آجاتا ہے، خاوند ڈرتا ہے کہ بچوں کو خود سے دور کر سکتا ہے نہ ان کی ماں سے، اور بیوی ڈرتی ہے کہ اگر طلاق ہوئی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا شوہر دوسری شادی کر لے اور بچے اسی کے پاس رہ جائیں۔

تو  اگر مصلحتاً وہ خاوند اور بیوی آپس میں ایک دوسرے سے اس طرح مصالحت کر لیں کہ شوہر بیوی کو طلاق نہ دے، بلکہ اپنے ہی نکاح میں رکھے؛ تاکہ بیوی کے لیے شوہر کے گھر رہنا جائز رہے، اور بیوی اپنی رضامندی سے شوہر کو اپنا حقِ زوجیت معاف کر دے، اور شوہر اپنی بیوی کو  اس کی ذات  کے لیے اور اس کے بچوں کے لیے بدستور خرچہ دیتا رہے، اور اگر بالفرض شوہر دوسری شادی کر بھی لے تو بیوی اپنی باری کا مطالبہ نہ کرے؛ کیوں کہ اپنا حقِ زوجیت وہ پہلے ہی معاف کر چکی ہوگی۔ تو کیا ایسی مصالحت باہمی رضامندی سے جائز ہوگی؟ اور اگر جائز نہیں ہے، تو آپ اس کا کیا حل تجویز فرماتے ہیں؟

جواب

بیوی اگر اپنی رضامندی سے اپنا حقِ زوجیت معاف کردے اور باہم اس پر صلح کرلیں کہ شوہر اپنی بیوی کو  اس کے لیے اور اس کے بچوں کے لیے بدستور خرچہ دیتا رہے گا، شوہر دوسری شادی کر بھی لے تو بیوی اپنی باری کا مطالبہ نہ کرے  تو ایساکرنا جائز ہے ،  لیکن بیوی کو اپنی باری معاف کرنے کے بعد دوبارہ اس سے رجوع کرکے  حقِ  زوجیت کا مطالبہ کرنے کا حق ہوگا۔ 

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

"إن رضیت إحدی الزوجات بترک قسمتها لصاحبتها جاز، ولها أن ترجع في ذلك؛ لأنها أسقطت حقاًلم یجب بعد فلایسقط". ( الهدایة، ۲/۳۱۴ ) (البنایة: ۴/۸۰۲) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201888

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں