بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جمادى الاخرى 1441ھ- 23 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

ایک بچے کا دو مرتبہ عقیقہ کرنا


سوال

کیا ایک بچے کا عقیقہ دو مرتبہ ہوسکتا ہے? مثلاً ایک ننھیال اور ایک ددھیال کی طرف سے۔

جواب

عقیقہ شرعاً  ایک ہی مرتبہ ثابت ہے، اگر بچہ ددھیال میں ہے تو وہیں عقیقہ کرنا بہتر ہے، اگر ننھیال میں ہے تو ننھیال میں بہتر ہے؛ تاکہ جانور ذبح کرنے اور بال اتروانے کا کام ایک ہی جگہ انجام پائے۔ ( عقیقہ انسائیکلو پیڈیاص 86) باقی اگر دو مرتبہ کرنا چاہیں تو شرعاً  ممانعت یا حرج نہیں ہے، کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200792

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے