بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

ایک آن لائن کمپنی میں انویسمنٹ کرنے کا حکم


سوال

ایک شبہ جو وجود میں آیا کہ آن لائن انوسٹمنٹ کی بہت سی کمپنیاں اس وقت انٹرنیٹ پر کام کر رہی ہیں، ہر کمپنی کی الگ الگ شرائط و ضوابط ہیں۔میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک ایسی کمپنی میں انوسٹمنٹ کرنا جو آپ کو روزانہ کی بنیاد پر فِکس فیصد دیتی ہے اور ہمارا پیسہ الگ الگ کاروباری کاموں میں لگاتی ہیں جیسے کہ سٹاک مارکیٹ، شیئر مارکیٹ، کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ وغیرہ۔ اور 5 لیول تک کمیشن بھی دیتی ہے ریفر کرنے پر،  یعنی آپ کسی کو کمپنی میں لاؤ تو وہ جب بھی انوسٹمنٹ کرے گا آپ کو اس کی انوسٹمنٹ کا ایک خاص حصہ ملے گا اور اگر وہ کسی کو ریفر کرے تو اس کا بھی ایک خاص حصہ اس کو اور آپ کو دونوں کو ملتا ہے،  اسی طرح پانچ لیول تک چلتا رہتا ہے اور اس کمیشن کے بدلے میں ہمارا کام ان کی راہ نمائی ہر ممکن طریقے سے ہوتی ہے جیسے کہ سٹریٹیجی بنانا، کام کا صحیح طریقہ سکھانا وغیرہ وغیرہ۔ تو کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ اس طرح کا کمیشن لینا جائز ہے یا نہیں؟  اور اگر نہیں ہے تو وجہ کیا ہے(ایک دین کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے پوچھ رہاہوں) اور انوسٹمنٹ کرنا کیسا ہے؟

جواب

آپ نے جس کمپنی   کے طریقہ کار کا ذکر کیا ہے اس میں انویسمنٹ (سرمایہ کاری) کرنے کا جواز اس بات پر موقوف ہے کہ وہ کمپنی روزانہ کی بنیاد پر جو فکس فیصد دیتی ہے وہ سرمائے کا فکس فیصد ہوتا ہے یا نفع کا، اگر آپ کے سرمائے کا فکس فیصد دیتی ہے تو یہ جائز نہیں ہے اور اس طریقہ پر اس کمپنی میں انویسمنٹ کرنا جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر کمپنی کاروبار سے حاصل شدہ نفع کا مخصوص فیصد دیتی ہے تو اس حد تک نفع کی تقسیم طے کرنا جائز ہے، تاہم اس کمپنی میں انویسمنٹ کرنے کے جائز ہونے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ کمپنی جس کاروبار میں آپ کا پیسہ لگاتی ہے وہ کاروبار شرعاً جائز بھی ہو، اور اس میں تمام فقہی شرائط کی رعایت بھی کی جاتی ہو، مثلاً اسٹاک مارکیٹ اور شیئر مارکیٹ میں پیسہ لگانے کے جواز کے لیے مفتیانِ کرام نے جو  شرائط بیان کی ہیں ان کی مکمل رعایت کی جاتی ہو، جہاں تک بات کرپٹو کرنسی کی ہے، تو اس کے ذریعے معاملات کی اجازت نہیں ہے، لہٰذا کمپنی کا  کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ میں پیسہ لگانے سے مکمل اجتناب کرنا بھی  ضروری ہے۔ بہرحال اس کمپنی میں انویسمنٹ کرنا جائز نہیں ہوگا۔

باقی کمپنی کا کسی کو ریفر کرنے کی وجہ سے آپ کو کمیشن دینے کا حکم یہ ہے کہ جس شخص کو  آپ خود کمپنی میں انویسمنٹ کرنے کے لیے لائیں اس کا کمیشن  لینا تو جائز ہے (بشرطیکہ اس کمپنی میں انویسمنٹ کرنے کے جواز کی  بقیہ تمام شرائط  موجود ہوں)، لیکن آپ نے جس کو ریفر کیا ہے وہ آگے جس کو ریفر کرے اس کا کمیشن لینا آپ کے لیے جائز نہیں ہے۔اگر اس کمپنی میں انسویسمنٹ کے وقت یہ بھی شرط ہو یا اس کمپنی کا اصل کام ہی اس طرح کمیشن در کمیشن دینا ہو تو بھی اس میں انویسمنٹ کرنا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201502

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے