بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایصال ثواب کا شرعی طریقہ


سوال

اپنے رشتہ داروں کے لیے  ایصالِ  ثواب کا طریقہ بتادیں۔

جواب

ایصالِ ثواب کا کوئی خاص طریقہ شریعت میں متعین نہیں ہے، نہ اس میں کسی دن کی قید ہے، نہ کسی خاص ذکر کی پابندی ہے اور نہ قرآنِ کریم کو ختم کرنا ضروری ہے؛ بلکہ بلاتعیین جو نفلی عبادتِ بدنی و مالی بہ سہولت ہوسکے اس کا ثواب میت کو پہنچایا جاسکتا ہے ، نفلی اعمال کا ثواب مردہ اور زندہ دونوں کو بخشا جاسکتا ہے، اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک یہ ثواب ان کو بلاشک و شبہ پہنچتا ہے۔ 

ایصالِ ثواب کا مختصر طریقہ یہ ہے کہ تلاوت (یا کوئی بھی نفلی عبادت) کرنے کے بعد صرف یہ نیت کرلیں کہ ’’یااللہ اس عمل کا ثواب فلاں فلاں شخص تک پہنچا دیں‘‘ تو اس عمل کا ثواب عمل کرنے والے کو بھی اور جسے پہنچایا جائے اسے بھی مل جاتاہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200645

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے