بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1442ھ- 02 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ایسے پراجیکٹ میں کام کرنا جس کے لیے سود پر قرض لیا گیا ہو


سوال

میں ایک گورنمنٹ پراجیکٹ میں بطور کمپیوٹر آپریٹر کام کرہا ہوں، جب کہ پراجیکٹ کے لیے غیر ملکی بینکوں نے سود پرقرض دیا ہے تو اس پراجیکٹ میں شرعی لحاظ سے میرے  لیے کام کرنا کیسا ہے؟  کیا میری تنخواہ حرام ہے?  برائے کرم قران و حدیث کے روشنی میں جواب دیجیے!

جواب

سود پر قرض لینا سنگین گناہ  ہے اور اس قسم  کا قرض لینے والے ذمہ داران سخت گناہ گار ہوں گے، لیکن اگر آپ کا کام  حرام نہیں ہے، کام  حلال ہے تو اس کے عوض ملنے والی تنخواہ حرام نہیں ہو گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106201050

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں