بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ کیش بیک


سوال

ایزی پیسہ میں ہر ایزی لوڈ اور ٹرانزیکشن پر کچھ رقم کیش بیک کی صورت میں دی جاتی ہے،  کیا یہ رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

مذکورہ رقم قرض کے بدلہ میں ملنے والا نفع ہے جو کہ شرعاً سود ہے؛ لہذا یہ رقم لینا اور اس کا استعمال کرنا، دونوں ناجائز اور حرام ہے۔ فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے جامعہ کا فتوی یہاں ملاحظہ ہو :

ایزی پیسہ کیش بیک


فتوی نمبر : 144106200415

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے