بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ کیش بیک


سوال

ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے  ٹرانزیکشن کے بعد کمپنی واپس کچھ رقم دیتی ہے،  کیا یہ رقم لینا جائز ہے؟

جواب

ایزی پیسہ اور اس جیسی دوسری سروسز  جن میں کمپنی کو بطورِ  قرض  رقم رکھوانے کی وجہ سے ڈسکاؤنٹ ملتا ہو،  ایسے اکاؤںٹ کھلوانا چوں کہ ناجائز معاملے کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے ایسا اکاؤنٹ اپنے اختیار سے کھلوانا ہی جائز نہیں ہے، نیز  ان سے ڈسکاؤنٹ وصول کرنا بھی جائز نہیں ہے، چاہے وقتی طور پر اکاؤنٹ میں رقم موجود ہو یا نہ ہو ،کیوں کہ بنیاد قرض ہے۔ اور قرض کی وجہ سے ملنے والے نفع کو حدیث شریف میں سود کہا گیا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201684

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے