بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1442ھ- 30 نومبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ موبائل اکاونٹ میں پیسہ deposit کرانے پر Extra charge لینا


سوال

ہم ایزی پیسہ موبائل اکاؤنٹ میں پیسہ deposit کرانے پر Extra charge کرتے ہیں جو کہ کمپنی کے طرف سے Allowed نہیں ہے،  لیکن انتہائی کم کمیشن ملنے کے وجہ سے دکان دار یہ کام کرتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اگر deposit کرانے والا بندہ کوئی سرکاری ملازم ہو یا پولیس یا رینجرز والا یا ویسے ہی کوئی پڑھا لکھا ہو تو دکان دار ان سے Extra Charges نہیں لیتے ہیں، اس ڈر سے وہ شکایت نہ کردیں، لیکن زیادہ تر اس کا شکار عام عوام یا ناسمجھ یا مجبور لوگ ہی ہوتےہیں؛ لہٰذا پوچھنا یہ ہے کہ ان حالات میں یہ Extra Charges لینا کہاں تک درست ہے؟  کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا ظلم؟  قرآن وہ حدیث کے روشنی میں راہ نمائی فرمائیں!

جواب

اگر آپ نے کمپنی سے یہ معاہدہ کر رکھا ہے کہ آپ مقررہ کمیشن کے علاوہ مزید کچھ نہیں لیں گے (جیساکہ عموماً کمپنی یہ معاہدہ کرتی ہے، اور سوال سے بھی ظاہر ہے) تو اس سے زائد وصول کرنا وعدے کی خلاف ورزی ہے جو کہ جائز نہیں۔اگر آپ کے لیے یہ کمیشن کم ہے تو معاہدہ ختم کردیں۔ البتہ بالفرض  ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوتا  تو یہ باہمی رضامندی پر تھاکہ جس سے جتنا بھی کمیشن لیا جائے۔

"عن عبد الله بن عمرورضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أربع من كن فيه كان منافقاً، أو كانت فيه خصلة من أَربعة كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر»".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200896

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں