بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانا


سوال

کارڈ وغیرہ مختلف مقاصد کے حصول کے لیے ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانا درست ہے یا نہیں ؟

جواب

آج کل مروج ایزی پیسہ  اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز معاملے کےساتھ مشروط ہے؛ اس لیے یہ اکاؤنٹ کھلوانا یا کھولنا  جائز نہیں ۔البتہ  کوئی ’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ‘‘  کھلواچکاہو تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ صرف اپنی جمع کردہ رقم واپس لے سکتاہے، یا صرف جمع کردہ رقم کے برابر استفادہ کرسکتاہے، اس رقم پر ملنے والے اضافی فوائد حاصل کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہوں گے۔ اور چوں کہ اس اکاؤنٹ کھلوانے میں ناجائز معاملہ کرنا پڑاہے، اس لیے جلد از جلد اس اکاؤنٹ کو بند کروادے، یا اسے سادہ اکاؤنٹ میں تبدیل کردے۔

اگر کوئی کمپنی اس طرح کا ’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ‘‘  بنائے جس میں صرف اصل جمع کردہ رقم کے برابر ہی استفادہ کیا جاسکتاہو، اضافی کوئی نفع نہ دیا جاتاہو تو  ایسے اکاؤنٹ سے فائدہ اٹھانا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201036

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں