بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں


سوال

کیا ایزی پیسہ اکاؤٹ کھلوانا اور اس سے لین دین کرناجائز ہے  یا نہیں؟  1000 روپے اکاؤنٹ میں رکھنے کی صورت میں کسٹمر کو مفت منٹ اور ایم بی دیتے ہیں۔  اب اگر کوئی صرف اپنی ضروت کے لیے، مثلاً: بل جمع کرنے یا ایزی لوڈ کےلیے استعمال کرتا ہے اور سود کی نیت نہیں ہے تو  اس کو استعمال کیا جاسکتاہے؟

جواب

مروجہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ پر ملنے والے منافع درحقیقت قرض پر مشروط نفع کے قبیل سے ہونے کی وجہ سے سود کے زمرے میں داخل ہیں، لہذا مذکورہ اکاؤنٹ سے منافع حاصل کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی مذکورہ اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت ہے، اگر کسی نے کھلوالیا ہو تو مسئلہ معلوم ہوجانے کے بعد ایسا اکاؤنٹ بند کروادے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200925

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے